بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت تعلیم اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ترتیب اور تعداد میں توازن پیدا کرے گی جس کے تحت زیادہ آبادی والے صوبوں اور وسطی و مغربی علاقوں کو مزید وسائل فراہم کئے جائیں گے۔ اس فیصلے کا اعلان حال ہی میں ہونے والے وزارت کے ایک اجلاس میں کیا گیا۔
وزارت نے بیجنگ میں اجلاس کے دوران بتایا کہ اس اقدام کا مقصد اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں عدم توازن کو دور کرنا ہے۔ اس اجلاس میں سال کے لئے ملک کی تعلیمی ترقی کا روڈ میپ بھی پیش کیا گیا۔
وزارت تعلیم اس خلیج کو کم کرنے کی سمت میں قدم اٹھا چکی ہے۔ 4 جنوری کو وزارت کی جانب سے منظور شدہ 9 نئی یونیورسٹیوں میں سے 6 ملک کے وسطی اور مغربی علاقوں کے گنجان آباد صوبوں میں قائم کی جائیں گی۔
اسی اجلاس میں بنیادی تعلیمی وسائل کی بہتر تقسیم کی بھی ہدایت دی گئی۔ اس میں ان قصبوں میں اعلیٰ معیار کے مڈل سکولوں کی تعمیر اور توسیع کی حمایت شامل ہے جہاں سکول کی عمر کے بچوں کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان علاقوں میں بھی جہاں تعلیمی ڈھانچہ غیر ترقی یافتہ ہے۔
2025 میں چین میں مجموعی ایک کروڑ 33 لاکھ 50 ہزار طلبہ نے کالج میں داخلے کے قومی امتحان، جسے گاؤکاؤ کہا جاتا ہے کے لئے رجسٹریشن کروائی۔




