واشنگٹن (شِنہوا) نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ امریکہ اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کے کنٹرول کے آخری معاہدے کو ختم کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں اور اس کے مقابلے میں ایک بڑا معاہدہ کر سکتے ہیں جس میں "کچھ اور فریقین” بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
نیو سٹارٹ معاہدہ، جو 2011 میں نافذ ہوا تھا، دونوں ممالک کے نصب شدہ سٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کو 1,550 تک اور ترسیلی نظاموں، جن میں میزائل، بمبار طیارے اور آبدوزیں شامل ہیں، کو 700 تک محدود کرتا ہے۔ یہ معاہدہ 5 فروری کو ختم ہونے والا ہے۔
نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ ختم ہوتا ہے تو اسے ختم ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ معاہدے کی پابندیاں برقرار رکھنے کی ماسکو کی تجویز مسترد کر دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس کےمقابلے میں ایک بہتر معاہدہ کریں گے، جس میں ہم کچھ دیگر ممالک کو بھی شامل کرنا چاہیں گے۔
اس معاہدے کے ختم ہونے سے دنیا کی دو بڑی ایٹمی طاقتوں امریکہ اور روس پر تقریباً نصف صدی کے بعد پہلی بار اپنے جوہری ہتھیاروں کو محدود رکھنے کی پابندی ختم ہو جائے گی۔
واشنگٹن (شِنہوا) نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ امریکہ اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کے کنٹرول کے آخری معاہدے کو ختم کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں اور اس کے مقابلے میں ایک بڑا معاہدہ کر سکتے ہیں جس میں "کچھ اور فریقین” بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
نیو سٹارٹ معاہدہ، جو 2011 میں نافذ ہوا تھا، دونوں ممالک کے نصب شدہ سٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کو 1,550 تک اور ترسیلی نظاموں، جن میں میزائل، بمبار طیارے اور آبدوزیں شامل ہیں، کو 700 تک محدود کرتا ہے۔ یہ معاہدہ 5 فروری کو ختم ہونے والا ہے۔
نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ ختم ہوتا ہے تو اسے ختم ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ معاہدے کی پابندیاں برقرار رکھنے کی ماسکو کی تجویز مسترد کر دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس کےمقابلے میں ایک بہتر معاہدہ کریں گے، جس میں ہم کچھ دیگر ممالک کو بھی شامل کرنا چاہیں گے۔
اس معاہدے کے ختم ہونے سے دنیا کی دو بڑی ایٹمی طاقتوں امریکہ اور روس پر تقریباً نصف صدی کے بعد پہلی بار اپنے جوہری ہتھیاروں کو محدود رکھنے کی پابندی ختم ہو جائے گی۔




