سال 2025 میں ہانگ کانگ کی معیشت میں اس وقت نمایاں استحکام آیا جب مقامی کمپنیوں کے جرات مندانہ اقدامات کے باعث ماحول دوست ترقی کو فروغ ملا اور صارفین کے لئے زیادہ بامعنی اور بہتر تجربات کی راہ ہموار ہوئی۔
مقامی اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے اختتام تک مقامی کمپنیوں کی تعداد پندرہ لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی جبکہ ہانگ کانگ سے باہر کی کمپنیوں کی تعداد پندرہ ہزار سے بھی بڑھ گئی۔ یہ دونوں تاریخ کے بلند ترین اضافے ہیں۔
ہانگ کانگ کی کمپنیاں چاہے وہ چھوٹی ہوں یا بڑی ہوں، رجحانات سے فائدہ اٹھانے اور صارفین کے تجربے کو مزید بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
چِم شا چوئی ایسٹ میں بلی لاؤ کا کیفے تین سال قبل کھولا گیا تھا جو اُس ہانگ کانگ طرز کے ڈائنر کے سامنے واقع ہے جسے وہ تقریباً دس سال تک چلاتے رہے۔
موبائل گیمز اور اینیمے شوز کے ساتھ مشترکہ سرگرمیوں کے ذریعے اس کاروبار میں دوگنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (کینٹونیز): بلی لاؤ، ریسٹورنٹ مالک
"میرے خیال میں یہ سب جذباتی وابستگی کا معاملہ ہے۔ جب شائقین یہاں آتے ہیں تو وہ اپنی پسندیدہ آئی پی کی مصنوعات حاصل کر سکتے ہیں اور سرپرائز باکس بھی کھول سکتے ہیں جس سے انہیں واقعی خوشی ملتی ہے اور وہ ماحول سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ میرے لئے یہ روایتی کھانے کے دائرے سے کہیں آگے کا تجربہ ہے۔”
جہاں کچھ لوگ روحانی سکون کی تلاش میں ہیں وہیں دیگر اپنی ذائقہ کی خواہش پوری کرنے کے لئے کیمیائی مادوں سے پاک زرعی مصنوعات استعمال کرتے ہیں۔ یہ وہ مصنوعات ہیں جو وونگ چِن مِنْگ نے اپنے دو ہیکٹر رقبے پر مشتمل ہنگ یَت فارم میں بیس سال تک اگائی ہیں۔
منظر نگار سے کسان بننے والے وونگ کچن کے فضلے سے حیاتیاتی اینزائم کھاد تیار کرتے ہیں تاکہ کیمیائی کھاد کا متبادل فراہم کیا جا سکے۔ وہ کیڑوں پر قابو پانے کے لئے بینگن اور چوی سم جیسی معاون فصلیں بھی اگاتے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (کینٹونیز): وونگ چِن مِنْگ، آپریٹر، ہنگ یت فارم
"میری خواہش ہے کہ ہم اپنی تحقیق کے نتائج مختلف کمپنیوں اور اداروں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ وہ اس زرعی ماڈل کو ایک نئے انتخاب کے طور پر اپنائیں۔ یہ ایسا ماڈل ہے جو ماحول کا تحفظ کر سکتا ہے، کسانوں کی آمدنی بڑھا سکتا ہے اور خریدار کمپنیوں کو بہتر مصنوعات حاصل کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔”
ہانگ کانگ کی مجموعی اختراعی صلاحیت کے باعث مقامی کمپنیاں تیزی سے ذہین ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔
نئی صنعت کاری کو فروغ دینے کے ذمہ دار ایک قانونی ادارے ہانگ کانگ پروڈکٹیویٹی کونسل (ایط کے پی سی) کی جانب سے تقریباً 800 کمپنیوں پر کئے گئے سروے سے پتہ چلا کہ کاروباری عمل میں مصنوعی ذہانت کے آلات کا وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے جبکہ 24 فیصد کمپنیوں نے ایک سال کے اندر مصنوعی ذہانت کو اپنے کاروباری عمل میں مکمل طور پر شامل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
اسٹیل بنانے والی کمپنی وو لی گرین سولیوشنز لمیٹڈ نے ہانگ کانگ پروڈکٹیویٹی کونسل کے تعاون سے روبوٹک بازوؤں پر مشتمل ایک اسمارٹ ویلڈنگ سسٹم نصب کرنے پر کام کیا جس سے اعلیٰ مضبوطی والے اسٹیل بیمز کی پیداواری شرح 80 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 98 فیصد تک پہنچ گئی۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): میتھیو لائی، چیف ایگزیکٹو آفیسر، وو لی گرین سولیوشنز لمیٹڈ
"ہم قومی پالیسیوں کے مطابق فعال انداز میں نئی صنعت کاری کو فروغ دیتے ہیں اور ذہانت و خودکاری کے ذریعے اس میں جدت لاتے ہیں۔”
ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): ایڈمنڈ لائی، چیف ڈیجیٹل آفیسر، ہانگ کانگ پروڈکٹیویٹی کونسل
” جدید صنعت کاری جیسا کہ ذہین مینوفیکچرنگ ان طلبہ کو مواقع فراہم کرتی ہے جو اپنے تخلیقی خیالات کو عملی شکل دینے کے لئے جدت اور ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ فیکٹریوں میں عملی تجربہ حاصل کرنا ان کے مستقبل کے جدت اور ٹیکنالوجی کے منصوبوں میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔”
سال کی پہلے تین سہ ماہیوں میں ہانگ کانگ کی معیشت میں سالانہ بنیادوں پر 3.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے باعث سال 2025 کے لئے حقیقی جی ڈی پی نمو کی پیش گوئی تقریباً 2 سے 3 فیصد سے بڑھ کر 3.2 فیصد تک جا سکتی ہے۔
ہانگ کانگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
سال 2025 میں ہانگ کانگ کی ماحول دوست معاشی ترقی میں استحکام آیا
مقامی کمپنیوں کی تعداد جولائی تک پندرہ لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی
ہانگ کانگ سے باہر کی کمپنیوں کی تعداد پندرہ ہزار سے بھی زیادہ رہی
تمام مقامی کمپنیاں کاروباری رجحانات سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں
بلی لاؤ کے کیفے نے گیمز اور اینیمے شوز کے ساتھ اپنا کاروبار دوگنا کیا
وونگ نے ہنگ یَت فارم میں کیمیائی مادوں سے پاک زرعی پیداوار کو فروغ دیا
وہ کچن کے فضلے سے حیاتیاتی اینزائم کھاد تیار کرتے ہیں
ہانگ کانگ کی کمپنیاں تیزی سے ذہین ٹیکنالوجی اور خودکاری اپنا رہی ہیں
اسمارٹ ویلڈنگ سسٹم سے اسٹیل کی پیداوار اور معیار میں نمایاں بہتری آئی
جدید صنعت کاری طلبہ کو جدت اور ٹیکنالوجی میں عملی تجربہ فراہم کرتی ہے




