وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے سندھ کے فلیگ شپ صحت منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ترقیاتی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائیگی۔
ذرائع کے مطابق ہفتے کو وزیراعلی مراد علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ صحت کے ترقیاتی پورٹ فولیو کا جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، منسٹر پی اینڈ ڈی جام خان شورو ، منسٹر ورکس حاجی علی حسن زرداری، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری فنانس فیاض جتوئی، سیکریٹری ورکس نواز سوہو ، سیکریٹری صحت ریحان بلوچ، اور دیگر نے شرکت کی۔
سیکرٹری صحت ریحان بلوچ نے بتایا کہ محکمہ صحت کی 178سکیمیں 45.37 ارب روپے کی لاگت سے شروع کی گئی ہیں، ان سکیموں میں 140جاری، 38نئی سکیمیں ADPمیں شامل ہیں اب تک 21 فیصد ترقیاتی فنڈ اب تک خرچ ہوچکا ہے۔
ڈاکٹر عزرا پیچوہو نے بتایا کہ رزاق آباد میڈیکل کمپلیکس کیلئے 3.08ارب اضافی درکا ہیں جبکہ گلشن حدید 50بستروں کا اسپتال رواں سال مکمل ہوگا۔
اس موقع پر وزیراعلی نے فنانس ڈیپارٹمنٹ کو فوری فنڈ جاری ،16فلیگ شپ ہیلتھ منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ تمام منصوبے رواں مالی سال میں مکمل ہونے چاہئیں، جان بچانے والے منصوبوں میں تاخیر برداشت نہیں کی جائیگی۔
وزیراعلی نے محکمہ گنناس کو ہسپتال کیلئے باقی فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ امپیوٹیشن فری سندھ ایک تاریخی قدم ہے، سول ہسپتال کیلئے نیا ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ منظوری کے مراحل میں ہے، ایمرجنسی یونٹ کی تعمیر بھی جلد شروع ہوگی۔
وزیراعلی سندھ نے سعود آباد ہسپتال کے سائیکاٹری اور ایمرجنسی یونٹ کیلئے بھی اضافی فنڈ کی منظوری دی۔وزیراعلی نے لاڑکانہ میں 600بستروں کے ہسپتال کیلئے PC-Iمنظور ہو نے پر کام جلد شرو ع کرنے کی ہدایت کی ۔




