چین کے شمال مغربی ننگشیا ہوئی خودمختار علاقے کے شہر یِن چھوان میں شہری 7 ویں چین-عرب ممالک نمائش کا دورہ کر رہے ہیں-(شِنہوا)
یِن چھوان(شِنہوا) 7 ویں چین-عرب ممالک ایکسپو چین کے شمال مغربی ننگشیا ہوئی خودمختار علاقے کے دارالحکومت یِن چھوان میں شروع ہوگئی، جس میں 75 ممالک اور خطوں سے 7 ہزار 600 سے زائد شرکاء اور 2 ہزار 200 سے زیادہ اداروں اور کمپنیوں نے شرکت کی۔
تاریخ میں پہلی بار تمام 22 عرب ممالک اس نمائش میں شریک ہیں، اس کے علاوہ چین کے 31 صوبائی سطح کے علاقوں، سنکیانگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کور، ہانگ کانگ، مکاؤ اور تائیوان سے بھی وفود شریک ہیں۔
جدت، ماحول دوست ترقی اور خوشحالی کے عنوان سے ہونے والی یہ 4 روزہ نمائش تجارتی نمائشوں اور فورمز کی میزبانی کرے گی، جو 8 اہم شعبوں پر مرکوز ہوں گے۔ ان میں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اختراعات میں تعاون، جدید زراعت، سیاحت اور تخلیقی املاک جیسے شعبے شامل ہیں۔
اس سال کی نمائش میں متحدہ عرب امارات کو اعزازی مہمان ملک کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔نمائش کو 6 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں بیلٹ اینڈ روڈ تعاون، علاقائی اقتصادی شراکت داری، مرکزی ریاستی ادارے، صاف توانائی، ڈیجیٹل معیشت اور خصوصی مصنوعات شامل ہیں۔
2013 میaں شروع ہونے والی چین-عرب ممالک نمائش 7 ویں بار منعقد ہورہی ہے، جو چین اور عرب ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کا ایک اہم پلیٹ فارم بن چکی ہے۔ اس کے ذریعے جدید زراعت، نئی اور اعلیٰ ٹیکنالوجی، توانائی اور کیمیائی صنعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے متعدد منصوبے طے پائے ہیں۔
چین کئی برسوں سے عرب ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا ہے۔ 2024 میں چین اور عرب ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم 407.4 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں2.3 فیصد زیادہ ہے۔
