چین کے شمال مغربی علاقے میں واقع تیل کے بڑے پیداواری مرکز سنکیانگ آئل فیلڈ نے 28 دسمبر تک سالانہ 10 لاکھ ٹن سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ (سی او ٹو) اسٹوریج کا ہدف حاصل کر لیا جو چین میں بڑے پیمانے پر کاربن کی گرفت، استعمال اور ذخیرہ کاری(سی سی یو ایس) ٹیکنالوجیز کے اطلاق میں ایک نمایاں سنگِ میل ہے۔ یہ بات چائنہ نیشنل پیٹرولیم کارپوریشن (سی این پی سی) نے پیر کے روز بتائی۔
سنکیانگ ویغور خود مختار علاقے کے جنگگر بیسن میں واقع سنکیانگ آئل فیلڈ عوامی جمہوریہ چین کا تیل کا پہلا بڑا پیداواری مرکز ہے۔
حالیہ برسوں میں سنکیانگ آئل فیلڈ نے کاربن ڈائی آکسائیڈکے ذریعے تیل کی پیداوار بڑھانے کے طریقے (سی او ٹو ای او آر)آزما کر خارج شدہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو دوبارہ زیرِ زمین انجیکٹ کیا تاکہ تیل کے مرتکز ذخائر بن سکیں اور کم کاربن کے طریقوں سے تیل کی اعلیٰ پیداوار برقرار رکھی جا سکے۔
سنکیانگ آئل فیلڈ کے مطابق آئل فیلڈ میں انجیکٹ کی جانے والی 10 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کاربن کی ذخیرہ کاری کے لحاظ سے تقریباً 90 لاکھ درخت لگانے کے برابر ہے۔
ساؤنڈ بائٹ (چینی): سُون کائی، ڈپٹی منیجر، ڈیولپمنٹ ڈویژن، سنکیانگ آئل فیلڈ
"سنکیانگ آئل فیلڈ کا سی سی یو ایس پروجیکٹ سالانہ 10 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ انجیکٹ کرتا ہے۔ اس مقصد کے لئے روزانہ 4800 ٹن نقل و حمل اور انجیکشن کی تکمیل، 200 سے زائد کاربن ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی فعالیت، 400 سے زیادہ ٹرانسپورٹ روٹس کی منصوبہ بندی اور 60 سے زائد انجیکشن سائٹس کی کارروائی کا محتاظ انداز میں انجام دیا جانا ضروری ہے۔پوری آپریشنل چین کو بالکل درست انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہئے ۔ اگر ایک لنک ناکام ہو جائے تو پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔”
سنکیانگ آئل فیلڈ کے جائزوں کے مطابق سی او ٹو ای او آر کے لئے موزوں اس کے تیل کے ذخائر اور پیداواری علاقے میں موجود وہ نمکین آبی ذخائر جو کاربن محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مجموعی طور پر تقریباً دو ارب ٹن کاربن ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھتے ہیں۔ یوں ایک بڑے سی سی یو ایس صنعتی مرکز کی ترقی کے لئے سازگار حالات پیدا ہوتے ہیں۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026 تا 2030) کے دوران سنکیانگ آئل فیلڈ کا ارادہ ہے کہ ایک کروڑ ٹن سی سی یو ایس صلاحیت تیار کرنے اور نئے توانائی، کوئلہ سے پیدا ہونے والی بجلی اور سی سی یو ایس کے مربوط منصوبوں کو فروغ دیا جائے تاکہ چین کے توانائی کے شعبے میں ماحول دوست تبدیلی لانے میں مدد دی جا سکے۔
چین نے سال2030 تک کاربن اخراج کو عروج پر پہنچانے اور سال 2060 تک کاربن میں کمی کا پختہ عزم کر رکھا ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ کم کاربن ٹیکنالوجیز کو نئی منڈیوں اور صنعتی تبدیلی کا محرک قرار دیتے ہوئےموسمیاتی اقدامات کو معاشی قدر کی تخلیق کے ساتھ ہم آہنگ کر رہا ہے ۔
ارمچی، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
سنکیانگ آئل فیلڈ نے 10 لاکھ ٹن سی او ٹو اسٹوریج کا سنگِ میل عبور کر لیا
یہ کامیابی سی سی یو ایس ٹیکنالوجی کے باعث ممکن ہوئی
جنگگر بیسن میں واقع آئل فیلڈ چین کا پہلا بڑا تیل پیدا کنندہ ہے
سی او ٹو ای او آر کے ذریعے کم کاربن طریقوں سے تیل کی پیداوار ممکن ہوئی
10 لاکھ ٹن سی او ٹو انجیکٹ کرنا تقریباً 90 لاکھ درخت لگانے کے برابر ہے
پروجیکٹ میں روزانہ 4800 ٹن سی او ٹو کو انجیکٹ کیا جاتاہے
200 سے زائد کاربن ٹرانسپورٹ گاڑیاں اور 400 روٹس آپریٹ کی جاتی ہیں
اگلے 5 سال میں ایک کروڑ ٹن سی سی یو ایس صلاحیت تیار کرنے کا منصوبہ ہے
چین نے سال 2060 تک کاربن میں کمی کا ہدف مقرر کر رکھا ہے




