پیر, ستمبر 1, 2025
تازہ ترینشنگھائی تعاون تنظیم کا تھیان جن اجلاس علاقائی ترقی کے لئے نیک...

شنگھائی تعاون تنظیم کا تھیان جن اجلاس علاقائی ترقی کے لئے نیک شگون ہے، ماہرین اور شہریوں کی رائے

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہی اجلاس 2025 چین کے شہر تھیان جن میں 31 اگست سے یکم ستمبر تک منعقد ہوگا۔

ایس سی او 24 برس قبل چین اور اس کے 5 پڑوسی ممالک نے قائم کی تھی۔ آج یہ تنظیم 10 رکن ریاستوں، 2 مبصر ممالک اور ایشیا، یورپ اور افریقہ سے 14 مذاکراتی شراکت داروں پر مشتمل ہے۔

یہ اب ایک ایسی علاقائی تعاون تنظیم ہے جس کا دائرہ کار آبادی اور جغرافیہ دونوں لحاظ سے وسیع ہے۔ یہ ترقی کے سب سے زیادہ مواقع فراہم کرتی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): محمد ساجد کھوکھر، چیئرمین، ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی آف  پنجاب، پاکستان

"ایس سی او ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے ممالک اپنے تعاون کو مزید گہرائی اور وسعت دے سکتے ہیں۔ عالمی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو ایس سی او ان پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے جو دنیا کے متعدد ترقی پذیر ممالک کو ایک متبادل فراہم کرتا ہے۔ اس لئے میرا ماننا ہے کہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لئے ایس سی او کا مستقبل بہت روشن ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 2 (روسی): ایگریم بیگنووا، شہری، آستانہ، قازقستان

"میں خبروں کو باقاعدگی سے دیکھتی ہوں۔ خاص طور پر جب بات عالمی سطح کے بڑے سربراہ اجلاسوں کی ہو رہی ہو  جیسا کہ اب تھیان جن میں ہونے جا رہا ہے۔ ایس سی او محض باتوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ممالک کے درمیان تعاون، سلامتی، تجارت اور ترقی کا عملی قدم ہے۔ ایک عام شہری کی حیثیت سے میرے لئے ضروری ہے کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات اچھے ہوں تاکہ لوگ آسانی سے کام کر سکیں، سفر کر سکیں اور ترقی کر سکیں۔ ایس سی او تھیان جن سمٹ جیسے اجلاس دنیا میں استحکام اور ترقی کے امکانات بڑھاتے ہیں۔”

ساؤنڈ بائٹ 3 (روسی): بولات ژاربولوف، شہری، آستانہ، قازقستان

"تھیان جن میں ہونے والا یہ اجلاس عالمی سطح پر ایک اہم اور نمایاں واقعہ ہے۔آج کے پیچیدہ جغرافیائی سیاسی حالات میں یہ بہت ضروری ہے کہ شریک ممالک کے رہنما علاقائی سلامتی، تعلیم، ماحولیات اور ثقافت پر بات کریں۔”

ساؤنڈ بائٹ 4 (عربی): احمد سلام، سابق انڈر سیکرٹری، اسٹیٹ انفارمیشن سروس، مصر

"ایس سی او میں شمولیت کے خواہاں ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد اس تنظیم کی معاشی، سیاسی اور سفارتی طاقت کو اجاگر کرتی ہے۔ رکنیت حاصل کرنے سے ممالک کو ثقافتی، ابلاغی اور تعلیمی تعلقات کے ساتھ ساتھ تجربات اور تربیت کے تبادلے کے مواقع بھی میسر آتے ہیں۔ باہمی اعتماد کی بنیاد پر ایس سی او ایک ایسا ماڈل بن چکی ہے جس سے دنیا سیکھ سکتی ہے۔”

اسلام آباد، آستانہ اور قاہرہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!