لاہور: پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبے کے مختلف شہروں کے سیلاب زدہ علاقوں میں سکول بند رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور کے 33 سرکاری اور 12 نجی سکول بند رہیں گے،قصور کے107 سکول ، پاکپتن میں 30 ،تحصیل شرقپور کے 10 ، ضلع چنیوٹ کے 88 سکول بند رہیں گے۔
قصور کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موسم گرما کی تعطیلات کے بعد کھلنے والے سکول تا حکم ثانی بند کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کے حکم پر سی ای او ایجوکیشن نے 107 سکول بند رکھنے کا مراسلہ جاری کر دیا گیا۔
مراسلے کے مطابق ستلج میں سیلاب سے متاثرہ تحصیل قصور، چونیاں اور راوی سے متاثر پتوکی کے سکول بند رکھے جائیں گے، تحصیل قصور کے 61 سرکاری ایک غیر سرکاری، چونیاں کے 14 جبکہ پتوکی 31 سکول بند رہیں گے۔
ڈی سی لاہور سید موسی رضا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور کے 33 سرکاری اور 12 نجی سکول بند رہیں گے، سیلابی صورتحال کے پیش نظر بند کئے گئے 45 سکولز ریلیف کیمپس میں تبدیل کئے گئے ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق سنٹرل ماڈل سکول ریٹی گن روڈ، مراکہ، مانگا، چوہنگ، شاداب کالونی اور سگیاں کے سرکاری سکولز بند رہیں گے، تاڑ گڑھ شاہدرہ، بند روڈ شفیق آباد، پری محل شاہدرہ کے سرکاری سکولز بند رکھے جائیں گے۔
اسی طرح نیاز بیگ، شاہ پور کانجراں، بند روڈ ، گاشالا، رنگیل پور، خورد پور، چھگیاں بھمہ، موہلنوال، ملتان روڈ، مانوال کے سرکاری سکولوں میں بھی تعلیمی سرگرمیاں شروع نہیں ہوں گی۔
علاوہ ازیں قلعہ تراڑ ،مصطفی آباد، ملک پارک، عزیز کالونی، مانگا ہیڑ، جھگیاں باجا، برٹس،ہیون، سٹار، چلڈرن پیراڈائز سکولز بھی بند رہیں گے۔ لاہور شہر کے 45 سکولوں کے سوا تمام سکولز (آج) پیر سے دوبارہ تعلیمی سرگرمیاں شروع کریں گے۔
علاوہ ازیں پاکپتن میں دریائے ستلج میں سیلاب کے باعث 30 سکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سی او ایجوکیشن پاکپتن شازیہ رفیق نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا، نوٹیفکیشن کے مطابق بند کئے گئے سکولوں میں 18 سکول پاکپتن اور 12 سکول تحصیل عارفوالا کے شامل ہیں۔ شازیہ رفیق کا کہنا ہے کہ سرکاری سکولوں کو بند کرنے کا مقصد بچوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
مزید برآں شرقپورشریف میں بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سکول تا حکم ثانی بند کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ کے حکم پر تحصیل شرقپور کے 10 سکول بند رکھنے کا مراسلہ جاری کیا گیا، ڈی سی کا کہنا ہے کہ دریائے راوی کے سیلابی پانی سے متاثرہ علاقوں کے سکول بند رکھے جائیں گے۔
دوسری جانب ضلع چنیوٹ کے 88 سکول سیلاب سے شدید متاثر ہوئے ہیں، چنیوٹ کے 10 ، لالیاں کے 33 اور بھوانہ کے 45 سکول زیر آب ہیں، 10 بڑے ہائی سکول بھی شدید متاثر ہوئے، سیلابی پانی 40 سکولوں کے کمروں تک جا پہنچا ہے، سیلابی پانی 5 بڑے مراکز صحت بھی داخل ہونے سے سروسز کی فراہمی معطل ہے۔
ڈپٹی کمشنر چنیوٹ صفی اللہ گوندل نے کہا ہے کہ سکولوں اور صحت مراکز کی بحالی کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نارووال حسن رضا نے بھی سیلابی صورتحال کے باعث تعلیمی ادارے بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ڈی سی کے مطابق یکم ستمبر سے 5 ستمبر تک تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔
