کابل (شِنہوا) ہر صبح، دوپہر سے بہت پہلے ہی خاندان کابل میں نئی کھلنے والی چائنہ مارکیٹ کی جانب آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ خریداری کے تھیلے تیزی سے بھر جاتے ہیں، بچے بھری ہوئی گلیوں میں ادھر اُدھر گھومتے پھرتے ہیں اور ٹرالیوں کی ہلکی گڑگڑاہٹ گاہکوں کی گفتگو میں گھل مل جاتی ہے۔
اگرچہ اس مارکیٹ کے افتتاح کے ابھی صرف 2 ہفتے ہوئے ہیں لیکن یہ شہر کی روزمرہ زندگی کا ایک جانا پہچانا حصہ بن چکی ہے۔
مارکیٹ میں سیلز منیجر کے طور پر کام کرنے والی 22 سالہ خورشید حبیبی نے بتایا کہ گاہکوں کی تعداد بے مثال رہی ہے۔ وہ ماہانہ 20 ہزار افغانی کماتی ہیں اور 10 افراد کے خاندان کی کفالت کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ کابل کے تمام حصوں سے یہاں آتے ہیں کیونکہ قیمتیں مناسب اور معیار اعلیٰ ہے۔
حبیبی نے مزید کہا کہ کئی روایتی بازاروں کے برعکس چائنہ مارکیٹ میں خواتین کی ایک بڑی تعداد ملازمت کر رہی ہے جس سے خاندانوں، خاص طور پر خواتین خریداروں کے لئے ایک پرسکون ماحول پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین عملے کی موجودگی نے خاندانوں کو زیادہ راحت فراہم کی ہے۔
مارکیٹ کے اندر کام کی رفتار بہت تیز ہے۔ الماریاں خالی ہوتے ہی انہیں دوبارہ بھر دیا جاتا ہے۔ 23 سالہ امید جو گودام سنبھالتے ہیں اور روزانہ صبح 8 بجے سے رات 10 بجے تک کام کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ زیادہ طلب کی وجہ سے مسلسل کام کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی دنوں میں ہم شیلفوں کو دو دو بار بھرتے ہیں۔ گاہک خوش ہو کر جاتے ہیں اور کچھ تو 2 یا 3 بار واپس آتے ہیں۔
مارکیٹ کے ڈائریکٹر رحمت قاسمی کے لئے یہ خیال ایک سال سے زیادہ عرصہ پہلے اس وقت جنم لیا، جب انہوں نے ایک ایسا منظر دیکھا جو دیکھنا مشکل تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے لڑکوں اور لڑکیوں کو سڑکوں پر سامان بیچتے دیکھا تو مجھے بہت دکھ ہوا۔ میں بار بار سوچتا رہا کہ اس سے بہتر کوئی راستہ ضرور ہونا چاہیے۔
متعدد ممالک کی منڈیوں کا دورہ کرنے کے بعد انہوں نے رفتہ رفتہ ایک ایسا تصور تشکیل دیا کہ ایک ایسا مرکز جو مناسب قیمتوں پر اشیاء فراہم کرے، مستحکم روزگار دے اور افغان و چینی تاجروں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرے۔ آج وہ تصور کابل کے قلب میں حقیقت بن چکا ہے، جو صبح سے رات تک گہما گہمی سے بھرپور رہتا ہے۔
قاسمی نے کہا کہ چینی شراکت دار ابتدا میں محتاط تھے، لیکن مضبوط عوامی ردعمل نے انہیں حیرت میں ڈال دیا۔




