چین کے شمالی شہر تیانجن میں دریائے ہائی حہ کا رات کا منظر-(شِنہوا)
ماسکو(شِنہوا)روسی صدر ولادیمیر پوتن نے توقع ظاہر کی ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا تیانجن سربراہ اجلاس تنظیم میں ایک نئی اور طاقتور توانائی کا باعث بنے گا۔
چین کے دورے اور بیجنگ میں یوم فتح کی تقریبات میں شرکت سے قبل ایک تحریری انٹرویو میں پوتن نے امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس ایس سی او کی صلاحیت کو مضبوط کرے گا تاکہ وہ موجودہ دور کے چیلنجز اور خطرات کا موثر جواب دے سکے اور یوریشیائی خطے میں اتحاد کو مزید مستحکم کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ ایک زیادہ منصفانہ اور کثیر قطبی عالمی نظام کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا۔
پوتن نے کہا کہ ایس سی او کی کشش اس کے سادہ مگر مضبوط اصولوں میں ہے۔ ان اصولوں میں اس کے بانی فلسفے سے مضبوط وابستگی، مساوی تعاون کے لئے وسعت، کسی تیسرے فریق کو ہدف نہ بنانا اور ہر قوم کی قومی خصوصیات اور انفرادیت کا احترام شامل ہے۔
پوتن نے کہا کہ انہی اقدار کی بنیاد پر ایس سی او ایک زیادہ منصفانہ اور کثیر قطبی عالمی نظام کے قیام میں مدد فراہم کر رہی ہے جو بین الاقوامی قانون پر مبنی ہو اور اقوام متحدہ کو رابطے کا مرکزی کردار حاصل ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس عالمی وژن کا ایک اہم جزو یوریشیا میں مساوی اور ناقابل تقسیم سلامتی کا ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہے جس میں ایس سی او رکن ممالک کے درمیان قریبی ہم آہنگی شامل ہو۔
پوتن نے یقین ظاہر کیا کہ تیانجن سربراہ اجلاس ایس سی او کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ روس مکمل طور پر ان ترجیحات کی حمایت کرتا ہے جو چین نے اپنی صدارت کے دوران طے کی ہیں جن میں تنظیم کو مستحکم کرنا، ہر شعبے میں تعاون کو گہرا کرنا اور عالمی سطح پر ایس سی او کے کردار کو بڑھانا شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہماری مشترکہ کوششوں سے ہم ایس سی او کو ایک نئی تحریک دیں گے اور اسے وقت کے تقاضوں کے مطابق جدید بنائیں گے۔
چین 2024-2025 کے لئے ایس سی او کا صدر ہے۔ 2025 میں ایس سی او سربراہ اجلاس تیانجن میں منعقد ہورہا ہے۔
