ہفتہ, جنوری 31, 2026
بیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکچین کی معاشی ترقی بی آر آئی اور وسطی راہداری کی صلاحیتوں...

چین کی معاشی ترقی بی آر آئی اور وسطی راہداری کی صلاحیتوں کو فروغ دے رہی ہے، آذری ماہر اقتصادیات

باکو (شِنہوا) آذربائیجان کے ایک ماہر اقتصادیات اور آذر بائیجان کے رکن قومی اسمبلی ووگر بیراموف نے کہا ہے کہ چین کی معاشی ترقی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی ) اور وسطی راہداری کی صلاحیتوں کو وسعت دینے کے مواقع پیدا کر رہی ہے جبکہ علاقائی فوائد اور وسیع تر شراکت داری کو فروغ دے رہی ہے۔

2025 میں چین کی جی ڈی پی 1401.9 کھرب یوآن (تقریباً 201.6 کھرب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 فیصد اضافہ اور حکومت کے مقررہ اہداف کو پورا کرتا ہے۔ شِنہوا کو ایک تحریری انٹرویو میں ووگر بیراموف نے کہا کہ چین کی معیشت، جو دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے، کی یہ ترقی اور استحکام دنیا کے وسیع تر خطے بشمول ساؤتھ  کاکس کی ترقی کے لئے اہم ہے۔

بی آر آئی اور وسطی راہداری کے طریقہ کار کے تحت بنیادی ڈھانچے کے علاقائی منصوبوں کی ایک بڑی تعداد کو  باضابطہ طور پر چین کی حمایت حاصل ہے، جس میں بعض کو مالی اعانت مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی پائیدار معاشی طاقت رابطہ کاری کی ان  کوششوں میں شمولیت کے لئے مزید ممالک کو ترغیب دینا جاری رکھے گی۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ غیر یقینی صورتحال اور محصولات کا عالمی ترقی پر مسلسل  گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی وسیع مارکیٹ اپنے تجارتی شراکت داروں کے لئے مستحکم درآمدی و برآمدی ذرائع کو برقرار رکھنے، علاقائی اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور نقل وحمل کی صلاحیت کو وسعت دینے کے مواقع پیدا کرر ہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آذربائیجان سمیت خطے کے ممالک نے نقل وحمل اور لاجسٹکس سمیت مختلف شعبوں میں چین کے ساتھ مضبوط تعاون قائم کیا ہے۔یہ تعاون ان ممالک اور ان کے عوام کو باہمی فوائد پہنچا رہا ہے۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!