وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی سستی، اپنی اپنی فیلڈ میں ٹاپ کرنیوالے ایکسپوٹرز کو 2سال کیلئے بلیو پاسپورٹ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایکسپورٹرز و صنعتکار ہمارے سر کا تاج ہیں، صنعتی ترقی کے بغیر معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی، سرمایہ کاروں کو سہولت فراہمی کیلئے اقدامات کررہے ہیں، رسک کے بغیر ترقی ممکن نہیں، ایس ایم ایز کا ہاتھ پکڑنا ہوگا، مہنگائی سنگل ڈیجٹ، پالیسی ریٹ ساڑھے 10فیصد، معیشت میں بہتری آچکی ہے، کل تک ساتھ ہاتھ نہ ملانے والے آج کئی قدم آگے بڑھ کر بغل گیرہو رہے ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سپورٹ نہ ہوتی تو کئی مسائل حل نہیں کر سکتا تھا، ایسا اتحاد رہا تو ہندوستان کو دورے پڑیں گے پاکستان اتنا مضبوط ملک بن چکا ہے۔
ملک کے معروف ایکسپورٹرز اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج کی تقریب میں شرکت باعث فخر ہے، عظیم پاکستانیوں نے شبانہ روز محنت سے ایکسپورٹس میں میدان مارا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے، آپ لوگوں نے مشکل حالات میں ایکسپورٹس میں اضافہ کیا، آپ نے خطرات مول لیکر پاکستان کیلئے اربوں ڈالرز کمائے، پوری قوم آپ تمام ایکسپورٹرز کی احسان مند ہے۔
انہوں نے کہا کہ عظیم کاروباری شخصیات نے شبانہ روز محنت سے ملک کا نام روشن کیا، باتیں چل رہی تھیں کہ پاکستان خدانخواستہ ڈیفالٹ کے دہانے پر ہے، کچھ لوگوں نے ٹویٹس میں لکھ دیا تھا کہ ملک ٹیکنیکلی ڈیفالٹ کر چکا، میری 2023ء میں پیرس میں ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھے کہا اس وقت نیا سٹرکچر آفر کرنا بہت مشکل ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ سری لنکا ہمارا دوست ملک ہے، سری لنکا اس وقت ڈیفالٹ سے دوچار ہو چکا تھا، سری لنکا میں ڈیفالٹ کے بعد سڑکوں پر مظاہرے ہو رہے تھے، سری لنکن صدر نے کہا آپ میرے ساتھ ایم ڈی آئی ایم ایف کے پاس چلیں، میں نے ایم ڈی آئی ایم ایف سے دوبارہ بات کی، تو ایم ڈی نے کہا آپ پروگرام درمیان میں ادھورے چھوڑ جاتے ہیں، میں نے یقین دلایا کہ ہم آئی ایم ایف معاہدے پر ضرور عملدرآمد کریں گے جس پر ایم ڈی آئی ایم ایف نے کہا آپ کیلئے شارٹ ٹرم پروگرام دے رے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بالکل ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا، ہم نے مشکل فیصلے کر کے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، پوری قوم نے قربانی دی، غریب آدمی نے مشکلات کا سامنا کیا، پالیسی ریٹ 22فیصد تھا، ملک میں ایک کہرام کی کیفیت تھی مگر آج معیشت میں استحکام آچکا ہے، آج مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں ہے، پالیسی ریٹ ساڑھے 10فیصد پر ہے، صنعتکار وزیر خزانہ کے مشوروں پر عمل کریں اور تگڑے ہو کر فیصلے کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دوست ممالک کے قرضوں کی وجہ سے ہمارے فارن ایکسچینج ریزرو ڈبل ہوئے، ہم نے قرض کیلئے دوست ممالک سے درخواستیں کیں جو قرض لینے جاتا ہے اس کا سر ہمیشہ جھکا ہوتا ہے، چین نے ہمارے اربوں ڈالر رول اوور کئے، چائنہ نے ہمیشہ مشکل ترین وقت میں مدد کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب، یو اے ای اور قطر نے بھی ہمارا مشکل وقت میں ساتھ دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ گورنمنٹ کے پی ڈبلیو ڈی سمیت کئی ادارے بند ہو چکے ہیں، یوٹیلیٹی سٹورز بھی بند کئے، یوٹیلیٹی سٹورز میں بھی بہت کرپشن ہوتی تھی، سٹورز کے سامنے لائنوں میں لگے لوگوں کی عزت مجروح ہوتی تھی، پاسکو میں بھی کرپشن تھی اس کو بھی بند کردیا گیا، ہم اداروں میں اصلاحات لا رہے ہیں، اربوں روپے کی کرپشن کو ختم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معیشت میں استحکام آچکا مگر یہ کافی نہیں، اس میں کوئی شک نہیں پالیسی ریٹ ساڑھے 10فیصد پر آیا مگر اس میں مزید کمی نہ ہوئی تو تمام صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لایا جاسکتا، کمیٹیز چیئرمین کیلئے پرائیویٹ سیکٹرز سے بہترین لوگوں کا انتخاب کیا گیا ہے، دنیا میں کہیں بھی گورنمنٹ بزنس نہیں کرتی، جہاں گورنمنٹ بزنس کرے وہ تباہی کا موجب بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاروبار کرنا پرائیویٹ سیکٹر کا کام ہے، ماضی میں بھی عملی فیصلے کئے گئے، سابق وزیراعظم نواز شریف نے پرائیویٹ سیکٹر کیلئے جو اقدامات کئے وہ تاریخ کا حصہ ہیں، آج ہمیں آگے گروتھ کی جانب بڑھنا ہے، ایکسپورٹس کر کے ڈالرز کمائیں یہ مشکلات کا حل ہے، کاروباری برادر ی کی تجاویز کا خیر مقدم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ رسک کے بغیر دنیا میں کوئی چیز کامیاب نہیں ہوئی، میڈیم اور سمال لیول کے انٹرپنیور کا ہاتھ پکڑنا پڑے گا، اس وقت کالے بادل بھی منڈلا رہے ہیں کہا جا رہا ہے آپ کی امپورٹس بڑھ رہی ہیں، امپورٹس بڑھیں گی تو ایکسپورٹس ہوں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ تاجر، صنعتکار اور ایکسپورٹرز ہمارے سر کا تاج ہیں، معاشی ترقی کیلئے آپ کے مشوروں پر عمل کرنا میرا اور میری ٹیم کا فرض ہے، تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی کاروباری طبقے نے بھی مدد کرنی ہے۔
وزیراعظم نے اس موقع پر صنعتوں کیلئے بجلی کی قیمت میں 4روپے 4پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اقدام کا مقصد صنعتی شعبے کو ریلیف فراہم کرنا اور پیداوار کو فروغ دینا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج پاکستان کو سفارتی محاذ پر بھی کامیابیاں مل رہی ہیں، گزشتہ سال ہندوستان کے ساتھ مڈبھیڑ ہوئی، اسے ایسی شکست فاش ہوئی کہ آئندہ نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔
انہوں نے کہا کہ دوست ممالک پاکستانی پاسپورٹ کو اہمیت دیتے ہیں، فیلڈ مارشل کیساتھ مختلف ممالک کی دعوت پر دورے کر رہا ہوں جو ہمارے ساتھ ہاتھ نہیں ملاتے تھے وہ آج کئی قدم آگے بڑھ کر بغل گیر ہوتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ جن ایکسپورٹرز نے اپنی اپنی فیلڈ میں ٹاپ کیا ہے انہیں بلیو پاسپورٹ دیں گے جس کی مدت 2سال ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری انتہائی شفاف طریقے سے ہوئی، میری خاص ہدایات پر پی آئی اے کی نجکاری ٹیلی ویژن پر لائیو دکھائی گئی، عارف حبیب انتہائی قابل احترام سرمایہ کار ہیں، اللہ عارف حبیب کو کامیاب کرے۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے ذریعے کروڑوں پاکستانیوں کا دنیا میں سفر لائق تحسین ہے، عارف حبیب گروپ کو پی آئی اے کے حوالے سے حکومت کی پوری سپورٹ حاصل ہوگی، عارف حبیب گروپ کو کہوں گا مسافروں کو ورلڈ کلاس سروس ملنی چاہئے، پی آئی اے نے بہترین کارکردگی دکھائی تو صدر سے ایوارڈ کا کہوں گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ڈائریکٹ ٹیکسز کل نہیں آج کم ہونے چاہئیں، کنزیومر سے ٹیکس لیکر جیب میں ڈال لیں اس سے بڑا کوئی جرم نہیں ہو سکتا، جو ٹیکس جمع کرا رہے ہیں ان کو سلیوٹ کرتا ہوں، پٹرولیم سمگلنگ تقریبا بند ہو چکی ہے جس سے سالانہ 12ارب روپ ریونیو آ رہا ہے، پٹرولیم سمگلنگ بند کرنے میں فیلڈ مارشل کا اہم کردار ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ ڈیجیٹل فیلڈ میں بہترین کاوشیں جاری ہیں، شزا فاطمہ ڈیجیٹائزیشن کے عمل میں بہت محنت کر رہی ہیں، اویس لغاری نے پاور سیکٹر میں بہت محنت کی، پچھلے ڈیڑھ سال میں صارفین کو جو ریلیف ملا اس میں اویس لغاری کی بہت کاوشیں ہیں، وزیرخزانہ بھی بہت محنت سے کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا خواجہ آصف کو کریڈٹ جاتا ہے، وزیردفاع نے نجکاری کے عمل میں بہت سپورٹ کیا کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی۔ انہوں نے کہا کہ حنیف عباسی نے پاکستان ریلویز کا نقشہ بدل دیا ہے، ڈپٹی پرائم منسٹر میری بہت معاونت کرتے ہیں، عطا تارڑ بھی اپنے شعبے پر خوب محنت کر رہے ہیں، حکومت سرمایہ کاروں کو سہولت دینے کے اقدامات اٹھا رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سپورٹ نہ ہوتی تو کئی مسائل حل نہیں کر سکتا تھا ایسا اتحاد رہا تو ہندوستان کو دورے پڑیں گے کہ پاکستان اتنا مضبوط ملک بن چکا ہے۔




