جمعہ, اگست 29, 2025
تازہ ترینشنگھائی میں غیر ملکی اور چینی فنکاروں کی پیشکش کے ساتھ اوپیرا...

شنگھائی میں غیر ملکی اور چینی فنکاروں کی پیشکش کے ساتھ اوپیرا "فالستاف” کی شاندار واپسی

باقاعدہ پرفارمنس میں ابھی ایک ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے مگر ‘فالستاف’ کے اداکاروں نے ریہرسل کا آغاز کر دیا ہے۔

جوزیپے ویردی کا آخری اوپیرا فالسٹاف جو انہوں نے 80 برس کی عمر میں تخلیق کیا تھا شنگھائی اوپیرا ہاؤس کے صدر شو ژونگ کی قیادت میں 5 سے 7 ستمبر کو دوبارہ پیش کیا جائے گا۔

یہ اوپیرا پہلی بار سال  2016 میں شنگھائی گرینڈ تھیئٹر میں پیش کیا گیا۔ یہ شیکسپیئر کی 400 ویں برسی پر ایک شاندار خراجِ عقیدت تھا۔ اسے ملکی و غیر ملکی سطح پر ناظرین اور ماہرین کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): شو ژونگ، صدر، شنگھائی اوپیرا ہاؤس

"ہم ایک اطالوی اوپیرا پیش کر رہے ہیں۔ اطالوی گلوکاروں کی ادائیگی اور تلفظ چین کے گلوکاروں سے کافی مختلف ہے، اور بعض جملوں میں خاص فرق نظر آتا ہے۔ اسی لیے ہمارے گلوکاروں کے لیے نہایت نکھری ہوئی تکنیکی مہارت ضروری ہے۔ چین اور باہر کے ملکوں کے فنکاروں کو اکٹھا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے چینی فنکار اطالوی زبان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکیں۔”

شنگھائی اوپیرا ہاؤس نے اوپیرا فال اسٹاف کی پیشکش کے لئے چین، اٹلی اور اسپین کے ممتاز گلوکاروں کو یکجا کیا ہے۔ فال اسٹاف کی کروس ماسٹر فرانسسکا توسی پہلی مرتبہ شنگھائی پہنچی ہیں۔وہ شنگھائی اوپیرا ہاؤس کے کوریس کو اس اوپیرا کے متحرک اور تہہ دار حصوں سے نمٹنے کی تربیت دینے کی ذمہ دار ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): فرانسسکا توسی، اطالوی کورس ماسٹر

"چین میں شنگھائی آنے کا میرا پہلا تجربہ بہت شاندار رہا ہے۔ یہ ایک خوبصورت، شاندار اور بڑا شہر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تعاون غیر معمولی ہے۔ مجھے ایک اطالوی شہری ہونے پر خوشی اور فخر ہے کیونکہ ایک اتنے بڑے اوپیرا ہاؤس نے ویردی جیسے اطالوی موسیقار کے کام کو چنا۔ یہ میرے لیے نہایت اہم اور خوش کن بات ہے۔”

چینی اداکاروں کے لئے ’’فال اسٹاف‘‘ ڈرامہ کئی حوالوں سے مشکل ہے جن میں سب سے بڑی رکاوٹ زبان ہے۔ اطالوی ووکل کوچ الیسندرو اموریتی خود تربیت دیتے ہیں تاکہ اطالوی تلفظ اور اسلوب کی خالصتاً درستگی یقینی بنائی جا سکے۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): الیسندرو اموریتی، اطالوی ووکل کوچ

"یقیناً یہ ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ ہماری دونوں زبانیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ لیکن میری خواہش اور خوشی یہی ہے کہ ادائیگی، مفہوم اور تلفظ کے ہر باریک ترین پہلو تک پہنچا جائے تاکہ سامعین کو یوں محسوس ہو جیسے وہ اطالوی زبان میں ہی گا رہے ہوں۔”

شنگھائی، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!