قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں چینی صدر شی جن پھنگ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کے 24 ویں اجلاس میں شریک رہنماؤں کے ساتھ گروپ فوٹو بنواتے ہوئے-(شِنہوا)
بیجنگ(شِنہوا) 15 جولائی کو چینی صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے قلب میں واقع عظیم عوامی ہال کے شاندار فوجیان ہال میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اعلیٰ سفارتکاروں اور مستقل اداروں کے سربراہان کا خیرمقدم کیا۔
شی نے اجلاس میں زور دیا کہ چین نے ہمیشہ اپنی ہمسایہ سفارت کاری میں شنگھائی تعاون تنظیم کو ترجیح دی ہے اور اس تنظیم کو مزید مضبوط اور موثر بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔ یہ وعدہ چین کی دیرینہ کوششوں کا تسلسل ہے جس کا مقصد ایس سی او کے پلیٹ فارم پر ایک پرامن اور ترقی یافتہ ہمسائیگی کو فروغ دینا ہے۔
شی جن پھنگ نے جون میں قازقستان کے دارالحکومت آستانہ کے اپنے حالیہ دورے میں چین کی ہمسائیگی کی پالیسی کی وضاحت کی۔ اس دوستی کی بنیاد دوستی، خلوص، باہمی فائدے اور شمولیت جیسے اصولوں پر ہے۔ اس پالیسی میں ایک خوشحال، محفوظ اور ہم آہنگ ہمسائیگی کا مضبوط عزم بھی شامل ہے۔
آنے والے دنوں میں شی جن پھنگ شمالی بندرگاہی شہر تیانجن میں اس سال کے ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی کریں گے جہاں تنظیم کے دیگر رہنما خطے میں سلامتی اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لئے حکمت عملی مرتب کریں گے اور مشترکہ مستقبل کے حامل قریبی ایس سی او معاشرے کی تشکیل کی سمت عملی اقدامات اٹھائیں گے۔
شی نے اس سال ابھی تک 3 غیر ملکی دورے کئے۔ ان میں 2 دورے روس اور قازقستان کے تھے۔ یہ دونوں ممالک ایس سی او کے رکن ہیں۔
جون میں دوسرے چین۔ وسطی ایشیا سربراہ اجلاس میں شرکت کے لئے آستانہ ایئرپورٹ پہنچنے پر شی کے دیرینہ دوست قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ یہ صدر بننے کے بعد شی کا اس پڑوسی ملک کا چھٹا دورہ تھا۔
قازقستان کے دارالحکومت آستانہ کے ہوائی اڈے پر قازق صدر قاسم جومارت توکائیف چینی صدر شی جن پھنگ کا استقبال کر رہے ہیں-(شِنہوا)
چین ۔وسطی ایشیا سربراہ اجلاس کا مقصد قدیم شاہراہ ریشم کے ساتھ واقع خشکی میں گھرے پڑوسی ممالک کے ساتھ چین کے تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔
شی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک وسطی ایشیائی کہاوت ہم آہنگی اور اتحاد کو خوشی اور دولت سے تشبیہ دیتی ہے۔ ہم اپنے پڑوسیوں کے لئے ہمیشہ خیر و بھلائی کی خواہش رکھتے ہیں۔
چین دنیا میں سب سے زیادہ پڑوسی ممالک رکھنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ پڑوسی ممالک کے ساتھ قریبی شراکت داری کو فروغ دینا کئی دہائیوں سے چین کی خارجہ پالیسی میں توازن اور پائیداری کا بنیادی عنصر رہا ہے۔ شی جن پھنگ نے پرامن اور دوستانہ ہمسائیگی قائم کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے۔
2013 میں جب شی پہلی مرتبہ چین کے صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے چین کی ہمسایہ ممالک کی سفارت کاری سے متعلق اجلاس میں دوستی، خلوص، باہمی مفاد اور جامعیت کا اصول پیش کیا۔ یہ 1949 میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس تھی۔
بیجنگ میں اپریل کے مہینے میں ہمسایہ ممالک سے متعلق امور پر منعقدہ مرکزی کانفرنس میں شی جن پھنگ نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ "مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے” کی تشکیل پر زور دیا۔
یہ شی جن پھنگ کے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ باقاعدہ روابط کی صرف ایک مثال ہے۔ 2023 سے اب تک شی نے ایس سی اوکے رکن ممالک کے رہنماؤں سے درجنوں بار ملاقاتیں کی ہیں جن میں ایس سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر یا دیگر کثیرجہتی تقریبات کے دوران ملاقاتیں یا پھر ان رہنماؤں کے دورہ چین کے موقع پر ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔
یہ اعلیٰ سطح کے روابط نہ صرف ایس سی اوکے اندر ہم آہنگی اور تعاون کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں بلکہ ان ملاقاتوں نے رہنماؤں کے درمیان ذاتی سطح پر قریبی تعلقات قائم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
ان تعلقات کی بدولت ایس سی او نہ صرف ایک موثر علاقائی تنظیم کے طور پر ابھری ہے بلکہ ایسا پلیٹ فارم بھی بن چکی ہے جو مشترکہ ترقی، سلامتی اور باہمی اعتماد کو فروغ دیتا ہے۔
