فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار ہے تاہم اس نے زور دیا کہ رفح سرحدی گزرگاہ کو آئندہ چند دنوں میں مکمل طور پر کھولا جائے۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے بتایا کہ غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں، فائلیں تیار ہیں اور مختلف شعبوں میں اختیارات کی منتقلی کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں۔
انکے مطابق غزہ کی مکمل سول انتظامیہ ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کی جائیگی، یہ 15رکنی نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ امریکی سرپرستی میں ہونیوالے جنگ بندی معاہدے کے تحت قائم کی گئی ہے جو 10 اکتوبر 2025 سے نافذ العمل ہے، یہ کمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائیگی اور ایک اعلی نگران بورڈ کے تحت کام کریگی جس کی سربراہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
کمیٹی کے سربراہ اور فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر علی شعث کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ رفح بارڈر کھلتے ہی غزہ میں داخل ہونگے، حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ رفح گزرگاہ دونوں سمتوں میں مکمل آزادی کیساتھ کھولی جائے اور اس میں اسرائیلی رکاوٹیں شامل نہ ہوں۔




