ٹوکیو (شِنہوا) جاپانی باشندوں کی بڑی تعداد نے وزیراعظم سنائی تاکائیچی کی طرف سے ملک کے امن پسند آئین میں ترمیم کی کوششوں کے خلاف دارالحکومت ٹوکیو میں احتجاجی مظاہرہ کیا ۔
تقریباً ایک ہزار افراد نے وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی۔ انہوں نے مختلف کتبے اٹھا رکھے تھے ، جن پر‘‘جنگ کی مخالفت کرو، آئین کا دفاع کرو‘‘ اور ‘‘جنگ نہیں، تاکائیچی نہیں‘‘کے نعرے درج تھے۔
مظاہرین نے ‘‘آئین میں ترمیم نہ کرو‘‘ اور ‘‘امن کا تحفظ کرو‘‘ کے نعرے بھی لگائے۔ انہوں نے حکومت کی سمت کے متعلق سخت عدم اعتماد کا اظہار کیا۔
مظاہرے میں شریک ایک شخص چھی ہارو تومی یاما نے صحافیوں کو بتایا کہ تاکائیچی نے وزیراعظم بننے سے قبل بھی بارہا آئین میں ترمیم کی وکالت کی تھی اور ان کی اس نئی کوشش کو لازماً روکنا چاہیے۔
مظاہرے میں شریک ایک اور شخص کویاما نے کہا کہ حکومت دفاعی اخراجات میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے، عام لوگ بگڑتی ہوئی معاشی حالت کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاکائیچی انتظامیہ جاپان کو عسکری ریاست بنانا چاہتی ہے جو انتہائی خطرناک ہے۔
بڑی تعداد میں نوجوانوں نے بھی مظاہرے میں شرکت کی۔ ایک 20 سالہ خاتون نے کہا کہ اسے خدشہ ہے کہ جاپان کے امن پسند آئین میں ترمیم کی کوششیں امن کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس نے کہا کہ جاپان، جو کبھی جنگیں لڑتا اور چین پر حملہ آور ہوتا رہا ہے، ایک ایسا ملک تھا جس نے امن کو تباہ کیا۔ اس نے زور دیا کہ آئین کی شق 9 کا تحفظ لازمی ہے۔




