ہفتہ, فروری 28, 2026
تازہ ترینآئی ایم ایف عہدیدار نے چیلنجز کے باوجود چینی معیشت کو مضبوط...

آئی ایم ایف عہدیدار نے چیلنجز کے باوجود چینی معیشت کو مضبوط قرار دے دیا

واشنگٹن (شِنہوا) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ چین کی معیشت نے غیر معمولی مضبوطی کا مظاہرہ کیا ہے۔

آئی ایم ایف کے ایشیا بحرالکاہل ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر تھامس ہیل بلنگ نے شِنہوا کو انٹرویو میں کہا کہ داخلی چیلنجز اور غیر مستحکم بیرونی ماحول کے باوجود چینی معیشت نے مضبوطی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کو مصنوعی ذہانت کی ترقی اور فعال حکومتی پالیسیوں دونوں کی وجہ سے مدد ملی ہے۔

انہوں نے یہ بیان ایسے وقت دیا ہے جب آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے فروری کے وسط میں چین کے ساتھ آرٹیکل فور مشاورت کے اختتام پر رپورٹ جاری کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2025 میں چینی حکومت نے ریئل اسٹیٹ کے شعبے اور مقامی حکومتوں کے درمیان قرض کی تجدید یا دوبارہ مالی انتظام کے مسائل کو روکنے کے لئے بہتر انداز میں کام کیا ہے تاکہ یہ بڑے مسائل میں نہ بدلیں۔

انہوں نے نجی کھپت کو فروغ دینے کے لئے مضبوط اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر سماجی تحفظ کے نظام کو زیادہ مستحکم کیا جائے، جو حالیہ برسوں میں وسیع ہوا ہے اور اس نے متعلقہ اصلاحات کو آگے بڑھایا ہے۔

آئی ایم ایف کے عہدیدار نے عالمی معیشت میں چین کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ چین دنیا کے کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین عالمی ترقی میں اپنے معاشی حجم سے زیادہ حصہ ڈال رہا ہے  جو تقریباً 30 فیصد ہے جبکہ اس کا معاشی حجم تقریباً 20 فیصد ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک کھلی معیشت ہونے کے ناطے چین تجارت اور مالی روابط کے ذریعے بھی عالمی ترقی میں حصہ ڈال رہا ہے۔ جیسے جیسے چین ترقی کر رہا ہے، چینی کمپنیاں، جن میں جدید ترین شعبوں کی سرکردہ کمپنیاں بھی شامل ہیں، عالمی سطح پر وسعت اختیار کر رہی ہیں اور وہ دنیا کے باقی حصے کو علم بھی فراہم کر رہی ہیں۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!