یروشلم (شِنہوا) اسرائیل میں امریکی سفارت خانے نے جمعہ کو بتایا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے سکیورٹی خدشات کے باعث غیر ہنگامی سرکاری عملے اور ان کے اہل خانہ کو اسرائیل سے نکلنے کی اجازت دیدی ہے۔
سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ متعلقہ افراد کو اس وقت ملک چھوڑنے پر غور کرنا چاہیے جب تک تجارتی پروازیں چل رہی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سفارت خانہ سکیورٹی کے واقعات کے ردعمل اور پیشگی اطلاع کے بغیر امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ پر اسرائیل کے بعض علاقوں، بیت المقدس کے قدیم شہر اور مقبوضہ مغربی کنارے کے سفر پر مزید پابندی عائد کر سکتا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں متعین امریکی سفیر مائیک ہکابی نے جمعہ کی صبح سفارت خانے کے عملے کو ایک ای میل بھیجی جس میں جانے کے خواہش مند افراد پر زور دیا گیا کہ وہ "آج ہی” روانہ ہو جائیں۔
یہ حالیہ پیش رفت واشنگٹن اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت میں اضافے کے دوران سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل کی رپورٹس میں اشارہ دیا گیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد جوہری مذاکرات میں ایران پر دباؤ ڈالنے کے لئے ابتدائی حملے پر غور کر رہے تھے۔




