جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاک افغان کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے فوری جنگ بندی اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کامطالبہ کیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جذباتی رویے دونوں ممالک کیلئے پیچیدگیوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں، سفارتی کوششیں ہی پائیدار حل فراہم کر سکتی ہیں جبکہ یکطرفہ عسکری کارروائیاں مسائل کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کی شکایات جائز ہیں تاہم افغانستان کی خودمختاری اور اسکے داخلی مسائل کا احترام بھی ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ دوطرفہ مفادات، قابل اعتماد سکیورٹی فریم ورک اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ضابطوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔
مولانا فضل الرحمان نے خطے میں امن کے خواہاں ممالک سے بھی توقع ظاہر کی کہ وہ پرامن سفارتی کردار ادا کریں تاکہ کشیدگی کم ہو اور استحکام کو فروغ ملے۔




