ٹوکیو (شِنہوا) جاپان کے تعلیمی ماہرین، حزب اختلاف کے سیاستدانوں اور مبصرین نے وزیراعظم تاکائیچی کی زیر قیادت دائیں بازو کے بڑھتے ہوئے سیاسی رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ سمت خطرناک ہے اور اس پر وسیع عوامی نگرانی کی ضرورت ہے۔
آؤیاما گاکوئن یونیورسٹی کی اعزازی پروفیسر کو میکو ہابا نے ٹوکیو میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جاپان کی سیاست اور معاشرے میں دائیں بازو کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حوالے سے چوکس رہیں۔
سیاسی مبصر ماکوتو ساتاکا نے کہا کہ دائیں بازو کی سوچ رکھنے والی رہنما کے طور پر تاکائیچی کے اقتدار میں آنے سے ایک نہایت خطرناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
وکیل ہیتومی سوگیورا نے بھی وزیراعظم کے تائیوان سے متعلق بیانات اور جاپان کی فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوششوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات جاپان کے مفاد میں نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جاپان کو اپنے ماضی کی جارحانہ جنگوں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور چین کے ساتھ قائم کردہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔




