اقوام متحدہ (شِنہوا) ایک چینی مندوب نے جنوبی بحیرہ چین کے معاملے پر امریکی الزامات کو مسترد کر دیا۔
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کانگ نے امریکی نمائندے کے جنوبی بحیرہ چین میں "چین کے وسیع اور غیر قانونی سمندری دعوؤں”سے متعلق غلط ریمارکس کو سختی سے مسترد کیا۔
بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے بارے میں سلامتی کونسل کے ایک کھلے مباحثے کے دوران انہوں نے کہا کہ میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ نان ہائی ژو ڈاؤ اور اس سے ملحقہ پانیوں پر چین کی غیر متنازعہ خودمختاری ہے۔ اسے متعلقہ پانیوں پر خودمختار حقوق اور دائرہ اختیار حاصل ہے۔ جنوبی بحیرہ چین میں چین کی علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق و مفادات ٹھوس تاریخی اور قانونی بنیادوں پر قائم ہیں۔
فو نے کہا کہ میں امریکی نمائندے کو یہ بھی یاد دلانا چاہتا ہوں کہ امریکہ سمندروں کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن (یو این سی ایل او ایس) کا فریق نہیں ہے اور اسے یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ خود کو یو این سی ایل او ایس کا جج سمجھے اور دوسرے ممالک پر انگلیاں اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ جنوبی بحیرہ چین کے حوالے سے تاریخی تناظر اور معروضی حقائق کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے ہر جگہ فتنہ انگیزی اور نفاق کے بیج بو رہا ہے۔ اس نے جنوبی بحیرہ چین میں زمین سے مار کرنے والے درمیانے فاصلے کے میزائلوں سمیت جارحانہ ہتھیار بھی نصب کئے ہیں اور ‘ جہاز رانی کی آزادی’ کے بہانے اس نے اکثر جنوبی بحیرہ چین میں فوجی جاسوسی اور مشقوں کے لئے جدید بحری جہاز اور طیارے بھیجے ہیں اور چین کے علاقائی پانیوں، فضائی حدود اور جزائر و چٹانوں کے گرد و نواح میں مداخلت کی ہے۔
فو کانگ نے سوال اٹھایا کہ جنوبی بحیرہ چین میں کون زبردستی اور غنڈہ گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے؟ کون علاقائی استحکام کو بگاڑ رہا ہے اور جہاز رانی کی آزادی اور سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے؟ کون بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کو مجروح کر رہا ہے؟ حقائق خود واضح ہیں۔




