کابل (شِنہوا) اقوام متحدہ کے فنڈ برائے اطفال (یونیسف ) نے کہا ہے کہ افغانستان میں تعلیم ایک نازک مرحلے پر پہنچ چکی ہے جہاں 10 سال کی عمر تک کے 90 فیصد بچے ایک سادہ متن بھی نہیں پڑھ سکتے۔
یونیسف نے اپنی رپورٹ میں اس صورتحال کو ‘‘سیکھنے کے بغیر تعلیم‘‘ کا بحران قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں بچوں کی ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ بنیادی تعلیم اور عددی مہارت پر پائیدار سرمایہ کاری کرنے پر زور دیا گیا ہے، جو ہر بچے کے تعلیمی نتائج کے لئے ضروری ہے۔
اس تشویش ناک تعلیمی فرق کے باوجود لاکھوں طلبہ باضابطہ طور پر ملک کے تعلیمی نظام میں داخل ہیں۔ ایک کروڑ 20 لاکھ طلبہ سکولوں کے قومی نظام میں داخل ہیں جہاں وہ جدید علوم کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حال ہی میں کہا ہے کہ 28 لاکھ سے زیادہ طلبہ مذہبی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اسی دوران لاکھوں افغان بچے غربت، داخلی نقل مکانی اور تعلیمی سہولتوں تک محدود رسائی، خصوصاً دور دراز اور تنازعات کے شکار علاقوں میں سکول سے باہر ہیں، جس سے ملک کے انسانی وسائل پر طویل مدتی اثرات کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔




