وینتیان (شِنہوا) لاؤس میں چین کی امداد سے چلنے والے فاصلاتی تعلیم کے منصوبے (تکنیکی معاونت) کے تحت فراہم کئے گئے مواد کی حوالگی کی تقریب حال ہی میں لاؤس کے دارالحکومت وینتیان میں منعقد ہوئی۔ اس کے ساتھ لاؤس کے دیہی اساتذہ کے معیار اور صلاحیت میں بہتری کے منصوبے کا جائزہ اجلاس بھی ہوا۔
فاصلاتی تعلیم کے منصوبے کے تحت لاؤس کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مہارتوں کے قومی معیار سے متعلق سفارشات اور آئی ٹی تربیتی مواد تیار کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت 75 گھنٹے کے معاون ڈیجیٹل وسائل بھی تیار کئے گئے اور ملک بھر میں 20 دور دراز تربیتی مراکز قائم کئے گئے۔
لاؤس کے دیہی اساتذہ کا معیار اور استعداد بڑھانے کے منصوبے کے تحت پرائمری اور سیکنڈری سکولوں کے پرنسپلز اور اساتذہ کے لئے تعلیمی و تربیتی نظام وضع کرنے کی خاطر رہنما سفارشات تیار کی گئیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ درسی مواد، 75 گھنٹے کے ڈیجیٹل وسائل اور ٹریننگ ریسورس مینجمنٹ پلیٹ فارم بھی فراہم کیا گیا۔
سامان کی حوالگی کی تقریب میں چین نے باضابطہ طور پر 11 کیٹیگریز کی کتابیں پیش کیں جو خاص طور پر لاؤس کے لئے مرتب کی گئی ہیں۔ لاؤس کے نائب وزیر برائے تعلیم و کھیل کنگ مانو فوم مہاکسے نے کہا کہ لاؤس ان درسی کتب اور ڈیجیٹل وسائل کا بھرپور استعمال کرے گا تاکہ ڈیجیٹل دور کی ضروریات کے مطابق بہترین ٹیلنٹ پیدا کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبے لاؤس کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں نئی روح پھونکیں گے اور چین-لاؤس مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی کی تعمیر میں تعلیمی مدد فراہم کریں گے۔
لاؤس میں چینی سفارت خانے کے اقتصادی اور تجارتی مشیر لی شی ژین نے کہا کہ ان دونوں منصوبوں کی کامیاب تکمیل تعلیم کے شعبے میں مشترکہ مستقبل کے حامل چین-لاؤس کمیونٹی کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت عوامی روابط کو مضبوط بنانے کی ایک ٹھوس کامیابی ہیں۔ چین لاؤس کے ساتھ مل کر تعلیمی تعاون کو مزید اعلیٰ معیار، وسیع دائرہ کار اور گہرے درجے تک لے جانے کے لئے تیار ہے، تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو مزید فوائد حاصل ہو سکیں۔




