جمعرات, فروری 26, 2026
پاکستانپاکستان افغان عوام نہیں، دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کر رہا، دفتر خارجہ

پاکستان افغان عوام نہیں، دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کر رہا، دفتر خارجہ

دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان افغان عوام کیخلاف نہیں، دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کر رہا ہے، افغانستان کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات افسوسناک ہیں، افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے ایسی دھمکیوں کے مقابلے کیلئے مکمل تیار ہیں، بلوچستان میں دہشتگردی کے بعد بھارتی بیان پاکستانی موقف کی تصدیق ہے، ہم افغان سرزمین پر دہشت گردوں کو میسر آزادی کا خاتمہ چاہتے ہیں، کابل میں پاکستانی سفارت کاروں کو تحفظ کی فراہمی افغان حکومت کی ذمہ داری ہے۔

جمعرات کو صحافیوں کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ وزیر اعظم نے 23تا 24فروری امیر قطر کی دعوت پر قطر کا دورہ کیا، امیر قطر نے پاکستان کیساتھ اقتصادی شراکت داری کو اعلی سطح تک لے جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

قطر کے وزیر دفاع اور وزیر مملکت نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں وہ جدہ میں او آئی سی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیرمعمولی وزارتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ او آئی سی کا ہنگامی وزارتی اجلاس 26فروری کو جدہ میں منعقد ہو رہا ہے جس میں اسرائیلی قابض حکام کے غیرقانونی فیصلوں پر غور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار مقبوضہ مغربی کنارے کو نام نہاد ریاستی اراضی میں تبدیل کرنے کے اسرائیلی اقدامات پر پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔

علاوہ ازیں وزارتی اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار او آئی سی رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ رواں ماہ سمجھوتا ایکسپریس پر حملے کی 19ویں برسی ہے، اس حملے میں 70سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، حملے میں ملوث سوامی آسیم آنند نے اور بھارتی کرنل پروہت نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔

ترجمان نے کہاکہ سمجھوتا ایکسپریس میں ملوث چاروں مجرم آزاد پھر رہے ہیں، بھارت انہیں کٹہرے میں نہیں لا سکا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزارت خارجہ امور کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، بلوچستان میں دہشت گرد حملے کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کا بیان پاکستان کی موقف کی تصدیق ہے۔

ترجمان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت، خصوصا کشتواڑ ضلع میں 3نوجوانوں کی شہادت کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ بھارت جعلی انکائونٹرز اور کسٹوڈیل کلنگز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، پاکستان انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اداروں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا سلسلہ جاری رکھے گا اور بھارت کو اپنے اعمال کا جوابدہ بنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کیخلاف نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے، دہشت گردی کے دستاویزی ثبوت اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں بھی پیش کیے جا چکے ہیں، قطر کی جانب سے پاک افغان مصالحتی کوششیں خوش آئند ہیں، تاہم افغانستان کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات افسوسناک ہیں، پاکستان کی افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس طرح کی دھمکیوں کے مقابلے کیلئے مکمل تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر دوحا اور استنبول جیسا سٹرکچرڈ ڈائیلاگ فی الحال نہیں ہو رہا، افغان سرزمین پر دہشتگردوں کو میسر آزادی کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم افغان حکومت سے وہاں موجود تمام پاکستانی سفارتکاروں اور شہریوں کو تحفظ کی فراہمی کے خواہاں ہیں، کابل میں پاکستانی سفارتکاروں کو تحفظ کی فراہمی افغان حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ترجمان نے برطانوی پارلیمنٹ میں عمران خان کے حقوق کی خلاف ورزی پر ہونیوالی بات چیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی انسانی حقوق کے معاہدات کا حصہ ہے، ایسے بیانات ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت ہیں۔

ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون سے آگاہ ہیں، پاکستان امن سے متعلق خطرات سے آگاہ اور ان کیلئے تیار ہے، بھارتی وزیر اعظم کے دورہ اسرائیل پر اسرائیل میں ہونے والے احتجاج پر یہی کہوں گا کہ یہ اچھی بات ہے کہ وہاں کچھ باضمیر لوگ اب بھی ہیں۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!