واشنگٹن (شِنہوا) امریکی انتظامیہ نے ایرانی تیل کی "غیر قانونی” فروخت اور بیلسٹک میزائلوں اور جدید روایتی ہتھیاروں (اے سی ڈبلیو) کی پیداوار میں ملوث 30 سے زائد افراد، اداروں اور جہازوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کے جاری بیان کے مطابق ان اقدامات کا نشانہ 12 جہاز اور ان کے متعلقہ مالکان اور آپریٹرز ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پابندیاں ان متعدد نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بناتی ہیں جو ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور اور وزارت دفاع و مسلح افواج کو بیلسٹک میزائل اور اے سی ڈبلیو کی پیداوار کے لئے ضروری خام مال اور حساس مشینری حاصل کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور بغیر پائلٹ ڈرونز کو تیسرے ممالک میں پھیلانے میں معاون ہیں۔
بیان کے مطابق 2025 میں امریکی انتظامیہ نے 875 سے زائد افراد، بحری اور ہوائی جہازوں پر پابندیاں عائد کیں جو واشنگٹن کی طرف سے ایران پر "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی مہم کا حصہ تھیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ کبھی بھی ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جبکہ اس پر ایسے میزائل تیار کرنے کا الزام بھی لگایا جو امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جمعرات کو جنیوا میں طے ہے اور اس میں ایران کے جوہری پروگرام، بشمول یورینیم کی افزودگی کی سطح اور پابندیوں کی چھوٹ پر بات چیت متوقع ہے۔
کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والا مذاکراتی دور امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ مشترکہ فوجی کارروائی سے پہلے آخری سفارتی موقع ثابت ہو سکتا ہے۔




