بیجنگ (شِنہوا) چین اور جرمنی نے پانچ دہائیوں سے زائد عرصہ قبل سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے مسلسل تجارتی تعلقات کو وسعت دی ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت چین کی مجموعی غیر ملکی تجارت کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھی ہے۔
چین کی کسٹمز جنرل انتظامیہ کے مطابق 2025 میں چین اور جرمنی کے درمیان اشیاء کی تجارت کا حجم 15.1 کھرب یوآن (217.83 ارب امریکی ڈالر) رہا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں5.2 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اضافہ گزشتہ سال چین کی مجموعی غیر ملکی تجارت میں ہونے والے اضافے سے 1.4 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔
جرمنی گزشتہ سال یورپ میں چین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا جبکہ چین نے ایک سال کے وقفے کے بعد جرمنی کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہونے کی پوزیشن دوبارہ حاصل کی۔
اس تجارتی بہاؤ میں مشینری اور برقی مصنوعات کا حصہ سب سے زیادہ رہا۔سال 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان اس طرح کی اشیاء کی درآمدات اور برآمدات کی مالیت 10.7 کھرب یوآن رہی ،یہ شرح سالانہ بنیادوں پر 5.8 فیصد زیادہ اور دوطرفہ تجارت کا 70 فیصد حصہ ہے۔
دنیا کی دوسری اور تیسری بڑی معشتیں ہونے کے ناطے چین اور جرمنی ہمہ جہت تزویراتی شراکت دار ہیں جو ایک دوسرے سے باہمی فائدہ اٹھاتے ہیں۔




