جمعرات, فروری 26, 2026
انٹرنیشنلبھارت مسلمانوں کیخلاف اسرائیلی ماڈل پر عمل پیرا، عالمی میڈیا کا دعویٰ

بھارت مسلمانوں کیخلاف اسرائیلی ماڈل پر عمل پیرا، عالمی میڈیا کا دعویٰ

عالمی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ بھارتی حکومت اسرائیل کے سکیورٹی اور انتظامی ماڈل سے متاثر پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جن کے اثرات خصوصا مسلمانوں اور مقبوضہ کشمیر پر مرتب ہو رہے ہیں۔

میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں ایک مشترکہ نظریاتی وژن پایا جاتا ہے جس میں اقلیتوں کو سکیورٹی اور جغرافیائی خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہندوتوا نظریے سے وابستہ حلقے اسرائیلی طرز حکمرانی سے متاثر ہیں اور سیکیورٹی پالیسیوں میں نگرانی اور سخت اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کئے گئے ہیں جن میں چیک پوسٹوں کا قیام، چھاپے، اور مواصلاتی بندشیں شامل ہیں۔

رپورٹ میں بلڈوزر جسٹس پالیسی کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کے تحت مبینہ طور پر گھروں اور دکانوں کی مسماری کی گئی ہے جسے ناقدین ماورائے عدالت اقدام قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اختلافی آوازوں کی نگرانی کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں، بھارتی حکومت کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!