امریکہ نے جنگ کے دباؤ اور جوہری ہتھیاروں پر مذاکرات کے دوران ایک بار پھر ایران پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق نئی پابندیوں میں خاص طور پر وہ جہاز نشانہ بنائے گئے ہیں جو ایرانی تیل فروخت کر کے بیلسٹک میزائل پروگرام کیلئے فنڈز فراہم کر رہے ہیں، پابندیوں کے تحت 12 جہازوں، متعدد کمپنیوں اور افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، ان کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کر دئیے جائینگے اور امریکی شہریوں کیلئے ان کیساتھ مالی لین دین ممنوع ہو جائیگا، یہ پابندیاں صدر ٹرمپ انتظامیہ کے "زیادہ سے زیادہ دباؤ” مہم کے تحت لگائی گئی ہیں۔
امریکی وزارت خزانہ کے سیکرٹری نے کہا ہے کہ ایران غیر قانونی تیل کی فروخت کے ذریعے مالیاتی نظام کا غلط استعمال کرتا ہے، اس سے ہتھیار خریدے جاتے ہیں اور دہشتگرد گروہوں کی مدد کی جاتی ہے۔
دوسری جانب امریکا نے خطے میں اپنے فوجی وسائل بھی بڑھا دئیے ہیں جن میں دو ایئرکرافٹ کیریئرز اور بڑی لڑاکا ہوائی جہاز کی فلیٹس شامل ہیں تاکہ ایران کیخلاف ممکنہ فوجی کارروائی کیلے تیاری کی جا سکے۔
امریکا نے پابندیاں ٹرمپ کی پہلی مدت میں 2018میں ایران کیساتھ جوائنٹ کمپریہنسیو پلان آف ایکشن (عالمی جوہری معاہدہ)کو ختم کرنے کے بعد عائد کرنا شروع کیں۔




