بدھ, فروری 25, 2026
تازہ ترینپاکستانی کرکٹرز کو قومیت کی بنیاد پر نظر انداز کرنا افسوسناک ہوگا،...

پاکستانی کرکٹرز کو قومیت کی بنیاد پر نظر انداز کرنا افسوسناک ہوگا، انگلش آل رائونڈر

انگلش آل رائونڈر معین علی پاکستانی کرکٹرز کی حمایت میں ڈٹ گئے، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر کھلاڑیوں کو یہ محسوس ہوا کہ دی ہنڈرڈ میں پاکستانیوں کو بھارتی مالکان کی جانب سے جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے تو وہ اس کیخلاف آواز اٹھائینگے، اس نوعیت کا امتیازی سلوک برطانیہ میں نہیں ہو سکتا۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی کرکٹرز کو محض ان کی قومیت کی بنیاد پر نظر انداز کرنا انتہائی افسوسناک ہوگا، انگلش بورڈ اس معاملے کی روک تھام کیلئے اقدامات کرے، مجھے نہیں لگتا کہ برطانیہ میں ایسا ہو سکتا ہے ہمیں انتظار کرنا ہوگا کہ کیا ہوتا ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ بہت افسوسناک ہوگا، مجھے یقین ہے کہ ای سی بی اس پر نظر رکھے گا، اگر کھلاڑیوں کو لگا کہ دی ہنڈرڈ کی ٹیموں کے مالکان امتیازی رویہ اختیار کر رہے ہیں تو وہ متحد ہو کر آواز اٹھائینگے، پلیئرز کا ایک گروپ ضرور بولے گا، میرا خیال ہے کہ جس کھلاڑی کو بھی اس قسم کے معاملات پر تشویش ہو اسے کچھ کہنا چاہئے، چاہے اسکا پاکستانی پس منظر ہو یا نہ ہو آواز اٹھانی چاہئے، یہ خبر ابھی نئی ہے اسلئے میں نے زیادہ لوگوں سے بات نہیں کی لیکن بیشتر کھلاڑی ایک ہی سوچ رکھتے ہونگے، دوسرے ممالک یقینا اپنے فیصلے خود کرتے ہیں لیکن برطانیہ میں ہمیں ان معاملات پر کچھ زیادہ اختیار حاصل ہے اس طرح کے معاملات کافی عرصے سے چل رہے ہیں اور اب انکا حل نکالنے کا وقت آگیا ہے، یہ مناسب نہیں اور واضح طور پر مخصوص لوگوں کیخلاف امتیاز ہے، ایسا رویہ انتہائی افسوسناک ہے۔

لوگ شاید اسلئے نہیں بولتے کہ کسی مشکل میں نہ پڑ جائیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں خرابی کے بعد بنگلہ دیشی کھلاڑی بھی ایسے رویے کا سامنا کر سکتے ہیں، کھلاڑیوں کیلئے اس معاملے بات کرنا آسان نہیں کیونکہ اسکے ان کے کیریئر پر اثرات پڑ سکتے ہیں، یہ ٹیمیں دنیا بھر کی ہر لیگ میں موجود ہیں، نوجوان کھلاڑی مشکل پوزیشن میں ہوتے ہیں، البتہ میرے جیسے سینئر کھلاڑی کو اب زیادہ فکر نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ کسی کھلاڑی کو اسکے پس منظر کی وجہ سے نظر انداز کیا گیا تاہم اگر کئی سال تک پاکستانی کھلاڑی منتخب نہ کئے جائیں تو معاملہ واضح ہو جائیگا، جب گزشتہ سال دی ہنڈرڈ کی ٹیمیں فروخت کی جا رہی تھیں تو ای سی بی شاید اس پہلو پر زیادہ غور نہ کر سکا کیونکہ انگلینڈ میں ہمارا ذہن اس طرح نہیں سوچتا۔

معین علی نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان انگلینڈ کے نیوٹرل مقام پر میچز ہوں، یہ ٹیسٹ کرکٹ کیلئے شاندار اور شائقین کی تعداد و جوش ناقابل یقین ہوگا ۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!