منگل, فروری 24, 2026
تازہ ترینٹیکس ہدف میں 100ارب روپے کی کمی کیلئے حکومت کا آئی ایم...

ٹیکس ہدف میں 100ارب روپے کی کمی کیلئے حکومت کا آئی ایم ایف سے دوبارہ رجوع کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے رواں مالی سال 2025-26ء کے ٹیکس ہدف میں کمی کیلئے پھر آئی ایم ایف سے درخواست کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ذرائع کے مطابق جاری ورکنگ میں جولائی 2025ء سے جنوری 2026ء تک مہنگائی و معاشی ترقی کے مطابق ٹیکس آمدن کا جائزہ لیا جائے گا۔

ابتدائی تجاویز کے مطابق ہ آئی ایم ایف سے 100ارب روپے تک ٹیکس ہدف میں کمی کیلئے درخواست کی جائیگی جو کم سے کم 50ارب روپے تک ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کیساتھ جولائی سے جنوری کے دوران تک ٹیکس ڈیٹا پر تبادلہ خیال ہوگا جس میں مہنگائی و معاشی ترقی کے مطابق ٹیکس آمدن کا جائزہ لیا جائے گا، اگر آئی ایم ایف نے ایف بی آر کی تجاویز سے اتفاق کیا تو رواں مالی سال کیلئے ایف بی آر ٹیکس ہدف کو 13ہزار 979ارب سے کم کر کے 13ہزار 879ارب روپے تک لانے کی کوشش کرے گا، سپرٹیکس کے فیصلے سے بھی ٹیکس آمدن میں اضافے پر آئی ایم ایف کو بریفنگ دی جائے گی۔

ذرائع ک مطابق جولائی سے جنوری ایف بی آر مجموعی طور پر 7ہزار 147ارب روپے جمع کر سکا ہے، جولائی سے جنوری کیلئے ایف بی آر کا ہدف 7ہزار 521ارب روپے تھا۔

ایف بی آر کو رواں مالی سال جولائی سے جنوری 372ارب روپے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ مہنگائی اور معاشی ترقی کی شرح کے حساب سے ٹیکس کلیکشن پر خصوصی سیشن ہوگا، رواں مالی سال سپر ٹیکس سے 217ارب روپے کی وصولی کا امکان ہے۔

ایف بی آر حکام پرامید ہیں کہ عید کی تیاریوں کے سلسلے میں شاپنگ سے سیلز ٹیکس کی آمدن میں اضافہ ہوگا، ایف بی آر نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مارچ 2026 تک 9917ارب روپے ٹیکس محصولات جمع کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہے، اب تک 7 ہزار 147ارب روپے کی وصولی کے بعد باقی مدت میں مزید 2ہزار 765ارب روپے سے زائد اکٹھے کرنا ہوں گے، رواں ماہ فروری کیلئے ایف بی آر کا ہدف بھی تقریبا ڈیڑھ ہزار ارب روپے کے لگ بھگ ہے، ایف بی آر نے پارلیمنٹ سے منظور شدہ سالانہ ٹیکس ہدف 14 ہزار 131ارب روپے کو کم کر کے آئی ایم ایف معاہدے کے تحت 13ہزار 979ارب روپے کر دیا ہے، تاہم پارلیمنٹ نے تاحال اس نظرثانی شدہ ہدف کی باضابطہ منظوری نہیں دی۔

رواں مالی سال ایف بی آر کی ریونیو گروتھ تقریبا 12فیصد تک ریکارڈ ہوئی ہے، جولائی سے جنوری کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں نیٹ آمدن 3ہزار 496ارب روپے، سیلز کی مد میں 2ہزار 240ارب روپے، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 462ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 750ارب روپے جمع ہوئے ہیں، گزشتہ مالی سال 2024-25ء کے پہلے 7ماہ کے دوران 6ہزار 699ارب روپے ٹیکس کلیکشن ریکارڈ ہوئی تھی۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!