ماسکو (شِنہوا) چینی امور کے ایک روسی ماہر نے کہا ہے کہ بہار تہوار میں تجدید اور اتحاد جیسے عالمی انسانی اقدار جھلکتی ہیں، جس کی وجہ سے اسے عالمی سطح پر پہچان ملی ہے اور یہ حقیقی معنوں میں ایک عالمی اثر رکھتا ہے۔
ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ایشین اینڈ افریقن سٹڈیز کے شعبہ چینی فیلولوجی کے سربراہ کونسٹنٹین بارابوشکین نے شِنہوا کو ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ 2024 کے آخر میں بہار تہوار کو یونیسکو کی جانب سے انسانیت کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی نمائندہ فہرست میں شامل کیا گیا۔ یہ تہوار چینی عوام کی اپنے روایتی نئے سال کی تقریبات سے متعلق سماجی رسومات کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یہ درحقیقت عالمی اعتراف ہے جو اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ یہ تہوار واقعی پوری دنیا میں اثر رکھتا ہے۔
چینی امور کے ماہر نے بہار تہوار کو چینی ثقافت کا جامع اظہار قرار دیا۔ ان کے مطابق اس کی بہت سی روایات اور رسومات ہزاروں سال پہلے وجود میں آئیں اور چینی تہذیب کا تسلسل کبھی منقطع نہیں ہوا۔ ہزاروں سال قبل شروع ہونے والی تاریخی روایات آج بھی زندہ ہیں۔
بارابوشکین نے کہا کہ بہار تہوار محض کسی مخصوص کیلنڈر کی تاریخ سے منسلک نیا سال منانے کی تقریب نہیں ہے، بلکہ ایک دور کے اختتام اور دوسرے کے آغاز کی علامت بھی ہے۔ اسی بنیادی تصور کے گرد چین میں موسمی اور مذہبی رسومات نے جنم لیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ تہوار مذہبی دائرے سے نکل کر عوامی سطح پر زیادہ مقبول ہوتا گیا۔
بارابوشکین نے کہا کہ چین قومی نشاۃ ثانیہ کے ’’چینی خواب‘‘ کے حصول کی کوشش کر رہا ہے اور میرا ماننا ہے کہ بہار تہوار اس کوشش میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اتنے بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے، کیونکہ یہ اس اتحاد کو مضبوط بناتا ہے۔




