سپریم کورٹ نے جائیداد کی ملکیت و تقسیم کیس میں خیبرپختونخوا حکومت و صوبائی محتسب کی جانب سے دائر اپیلیں ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیں۔
سپریم کورٹ کی جسٹس مسرت ہلالی کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ جب نجی فریقین خود خاموش ہیں تو حکومت اور محتسب اپیل میں کیوں آئے؟۔
عدالت نے واضح کیا کہ محتسب جج کی حیثیت رکھتا ہے، فریق نہیں، لہٰذا وہ اعلی عدالتوں میں اپنے فیصلوں کی وکالت نہیں کر سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ محتسب نیم عدالتی ادارہ ہے اور وہ کسی فیصلے سے متاثر ہونیوالا فریق نہیں بن سکتا، محتسب کی حیثیت ایک منصف کی ہے اور اسے غیر جانبدار رہنا چاہئے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نہ تو اس جائیداد کی وارث تھی نہ ہی فیصلے سے اسے کوئی ذاتی نقصان پہنچا، اس لئے حکومت اور محتسب کو اپیل دائر کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں تھا۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر جائیداد کے اصل دعوے دار اپیل کرنا چاہیں تو ان کا حق متاثر نہیں ہوگا۔
عدالت نے قرار دیا کہ خیبرپختونخوا حکومت وصوبائی محتسب کی اپیلیں ناقابل سماعت ہونے کے باعث خارج کی جاتی ہیں۔




