منگل, فروری 24, 2026
انٹرنیشنلآسٹریلوی محققین نے زیادہ اخراج والے فضلے کو کاربن سے پاک کھاد...

آسٹریلوی محققین نے زیادہ اخراج والے فضلے کو کاربن سے پاک کھاد میں تبدیل کر دیا

سڈنی (شِنہوا) آسٹریلیا کے محققین نے فضلے کو کھاد میں تبدیل کرنے کا ایک انقلابی طریقہ کار تیار کیا ہے جس سے دنیا کی سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والی صنعتوں میں سے ایک کے اخراج  میں نمایاں کمی آئے گی۔

آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز (یو این ایس ڈبلیو) کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق محققین نے قابل تجدید بجلی کا استعمال کرتے ہوئے ایک الیکٹرو کیمیکل ری ایکشن پیدا کیا ہے۔ اس عمل کے ذریعے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو نائٹروجن کے آلودہ اجزاء جیسے نائٹریٹ اور نائٹرائٹ جو زراعت اور صنعت سے نکل کر پانی کو گندا کرتے ہیں، کے ساتھ ملا کر یوریا تیار کیا گیا ہے۔ یہ طریقہ روایتی ایندھن پر منحصر پرانے طریقوں کے بجائے ماحول دوست ہے۔

یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر رحمان دایان نے کہا کہ یوریا وہ کھاد ہے جو دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کی فصلیں اگانے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ لیکن فی الحال یہ قدرتی گیس یا کوئلے سے بنائی جاتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی بہت زیادہ ایندھن، بلند درجہ حرارت اور زیادہ دباؤ استعمال کرتی ہے جس سے بڑے پیمانے پر آلودگی پھیلتی ہے۔

سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مصنف رحمان دایان نے مزید کہا کہ ہمارا وژن زیرو کاربن یوریا ہے جہاں ہم امونیا پر انحصار کرنے کے بجائے براہ راست کاربن ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن کے آلودہ اجزاء کو بجلی کے ذریعے ملا کر کھاد بناتے ہیں۔

تحقیق سے ثابت ہوا کہ ایٹمی سطح پر ڈیزائن کیا گیا کاپر- کوبالٹ کیٹالسٹ کاربن- نائٹروجن کے ملاپ کے لئے بہترین نتائج فراہم کرتا ہے اور موجودہ نظاموں کے مقابلے میں یوریا کی پیداوار کو بہتر بناتا ہے۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!