منگل, فروری 24, 2026
پاکستاناسلام آباد ہائیکورٹ، این سی سی آئی اے ملازمین مستقلی کیس پر...

اسلام آباد ہائیکورٹ، این سی سی آئی اے ملازمین مستقلی کیس پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے ملازمین کی مستقلی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ ریمارکس دیئے ہیں کہ ملازمین کی عدم مستقلی سیاسی وکٹمائزیشن ہے، نئی بھرتی کا مطلب حکومت اپنے بندے رکھے گی، آج کے دور میں کسی کو بیروزگار کرنے سے بڑا ظلم کوئی نہیں، رولز نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین اسی طرح کام کر رہے، ڈی پی سی میں بھی شامل نہیں ہو سکتے، پورے سسٹم میں عدالت پر بوجھ ڈالا جا رہا، عام شہری پس رہے ہیں، ان کا کیا قصور ہے؟۔

پیر کو جسٹس محسن اختر کیانی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے فیز تھری کے سینکڑوں ملازمین کی مستقلی کیس پر سماعت کی۔

درخواست گزار وکیل افنان کریم کنڈی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن بھی عدالت میں موجود تھے۔

وکیل درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ این سی سی آئی اے کو میٹنگ اور رولز بنانے کی ہدایت دی گئی تھی، ٹیسٹ اور انٹرویو سمیت ریکروٹنگ کے تمام تقاضے پورے کر کے 2018میں بھرتی کیا گیا، بعد ازاں کنٹریکٹ میں توسیع ہوتی رہی، 31اگست 2023ء کو آخری بار توسیع دی گئی، جنوری 2023ء میں حکومت سے 402پوسٹوں پر مستقل بھرتی کی اجازت مانگی گئی، آخری لیٹر میں مستقلی کا کہا گیا لیکن عمل نہیں ہوا۔

اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ملازمین آج بھی کام کر رہے ہیں اور تنخواہ بھی مل رہی ہے، رولز نہیں ہیں اس لئے مستقل نہیں کیا جا سکتا، این سی سی آئی اے ڈرافٹ پر کام کر رہی ہے، وقت دیا جائے اور آئندہ سماعت پر تحریری جواب جمع کرا دیا جائے گا۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ مستقل تقرریاں کیوں نہیں کی جا رہیں، یہ ایک سیاسی وکٹمائزیشن ہے، یہ بھی شہری ہیں وہ بھی شہری ہیں، حکومت کن کو رکھ رہی ہے؟۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال اٹھایا کہ حکومت بار بار کنٹریکٹ پر بھرتی کیوں کر رہی ہے، 402 پوسٹوں پر نئی بھرتی کا مطلب ہے کہ اب جو رجیم ہے وہ اپنے بندے رکھے گی۔

عدالت نے کہا کہ ایک بندے کو نوکری پر رکھ کر 5دس سال بعد 30دن کے نوٹس پر فارغ کر دیا جاتا ہے، اگر بھرتی کر کے کنٹریکٹ پر رکھ کر کام بھی لیا جا رہا ہے اور تجربہ بھی ہو رہا ہے تو مستقل کیوں نہیں کیا جا رہا؟۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ قانون نہیں بنایا جا رہا، ہر کیس میں عدالتی حکم کے بعد 8،10 ماہ میں رولز بنتے ہیں، پورے سسٹم میں عدالت پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے، عام شہری پس رہے ہیں، ان کا کیا قصور ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آج کے دور میں کسی کو بیروزگار کرنے سے بڑا ظلم کوئی نہیں، رولز نہ ہونے کی وجہ سے یہ ملازمین اسی طرح کام کر رہے ہیں اور ڈی پی سی میں بھی شامل نہیں ہو سکتے۔

عدالت نے ملازمین کو دیکھ کر وکیل سے استفسار کیا کہ یہ ملازمین یہاں کیوں ہیں، آفس کیوں نہیں گئے؟۔

وکیل افنان کریم کنڈی نے کہا کہ یہ ڈرے ہوئے ہیں کہ ان کو فارغ کردیا جائے گا جیسے دیگر کا کنٹریکٹ نہیں بڑھایا گیا، یہ خود آکر عدالت میں سماعت سننا چاہتے تھے کہ عدالت میں کیا ہو رہا ہے؟۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ یعنی ان کی بدعائیں بھی میرے کھاتے میں ہونگی، عدالتی ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا ۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!