منگل, فروری 24, 2026
پاکستان27ویں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا اختیار ختم، آئین وقانون کی...

27ویں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا اختیار ختم، آئین وقانون کی تشریح کی مجاز نہیں، وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے سپریم کورٹ کا آئین و قانون کی تشریح کا اختیار ختم ہو گیا۔

پیر کو وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق نے سیلز ٹیکس سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران تحریری فیصلے میں کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے پہلے تک آئین اور ملک کے قوانین کی تشریح کرنے کا حتمی اختیار سپریم کورٹ پاس تھا، لیکن اب نئی آئینی سکیم کے تحت یہ منظرنامہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے قرار دیا ہے کہ اب آئین اور قانون کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ سے منتقل ہو کر وفاقی آئینی عدالت کے پاس چلا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اگر کسی قانون یا آئینی شق کے معنی و مفہوم پر سوال اٹھے گا تو اس کا حتمی فیصلہ آئینی عدالت کرے گی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت اب اس بات کا جائزہ لینے کی بھی مکمل مجاز ہے کہ پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی کوئی بھی قانون سازی آئین کے مطابق ہے یا نہیں، اس کے پاس یہ اختیار بھی ہے کہ وہ کسی بھی ایسے مقدمے کا ریکارڈ طلب کر سکے جس میں آئین کی تشریح کا پہلو شامل ہو۔

جسٹس عامر فاروق نے فیصلے میں واضح کیا کہ 27ویں ترمیم کے نفاذ کے بعد اب سپریم کورٹ کے پاس وہ پرانا اختیار باقی نہیں رہا جس کے تحت وہ قانون سازی کی آئینی حیثیت کا جائزہ لیتی تھی یا آئین کے نکات کی تشریح کرتی تھی۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!