منگل, فروری 24, 2026
تازہ ترینزمبابوے میں چینی ماڈلز کی الیکٹرک گاڑیاں مقبولیت حاصل کر رہی ہیں

زمبابوے میں چینی ماڈلز کی الیکٹرک گاڑیاں مقبولیت حاصل کر رہی ہیں

جیسے جیسے عالمی آٹو موبائل صنعت ماحول دوست توانائی  کی جانب منتقل ہو رہی ہے ویسے ہی زمبابوے میں بھی بجلی سے چلنے والی گاڑیاں (ای ویز) آہستہ آہستہ مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔ زمبابوے کی منڈی طویل عرصہ روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کے زیرِ اثر رہی ہے۔

اس ماحول دوست تبدیلی کی بنیاد رکھنے میں بی وائی ڈی پیش پیش ہے جو نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں تیار کرنے والی ایک معروف کمپنی ہے۔

بی وائی ڈی زمبابوے کے جنرل منیجر کلیٹن چیموڈیما نے بتایا کہ حکومتی مراعات اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی شعور کے باعث ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): کلیٹن چیموڈیما، جنرل منیجر، بی وائی ڈی، زمبابوے

” اب تک صارفین کی جانب سے ہماری گاڑیوں کو شاندار پذیرائی مل رہی ہے۔”

چیموڈیما نے یہ بات حال ہی میں دارالحکومت ہرارے میں بی وائی ڈی زمبابوے کے شو روم میں دئیے گئے ایک انٹرویو کے دوران کہی۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): کلیٹن چیموڈیما، جنرل منیجر، بی وائی ڈی، زمبابوے

"ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ ہماری منڈی عموماً محتاط رہتی ہے۔ اپنے ماڈلز کے حوالے سے ہمیں اپنے صارفین کے ساتھ کسی قسم کا مسئلہ نہیں رہا۔”

کلیٹن چیموڈیما نے یہ بھی بتایا کہ زمبابوے حکومت نے فوسل ایندھن پر انحصار سے صفر  کاربن اخراج والی نقل و حمل کی جانب منتقلی کا عمل تیز کر دیا ہے۔ اس مقصدکے لئے مکمل الیکٹرک گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹی 40 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کر دی گئی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): کلیٹن چیموڈیما، جنرل منیجر، بی وائی ڈی ، زمبابوے

"اس کے علاوہ حکومت نے سولر مصنوعات کو ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دے کر بھی مدد فراہم کی ہے جو ہمارے لیے واقعی مفید ثابت ہو رہی ہے۔”

بی وائی ڈی نے حال ہی میں  الیکٹرک گاڑیوں کے نئے ماڈلز متعارف کرائے ہیں جس سے مقامی منڈی میں رسائی مزید بڑھی اور ملک میں ماحول دوست  منتقلی کا عمل تیز ہوا۔

چیموڈیما نے کہا کہ کمپنی اب صرف ابتدائی فروخت تک محدود نہیں ہے بلکہ صارفین کا اعتماد بڑھانے کے لئے مقامی منڈی میں مکمل دیکھ بھال اور معاونت بھی فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم تھری ایس ماڈل کو اپنا رہے ہیں۔ تھری ایس ماڈل کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا  اس کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے ہمارے پاس گاڑیوں کی فروخت ہے۔ دوسرا گاڑیوں کی سروس کی سہولت دستیاب ہے اور تیسرا یہ کہ ہمارے پاس اسپیئر پارٹس بھی موجود ہیں۔

بی وائی ڈی زمبابوے کی سیلز کنسلٹنٹ روکسان موونگانیروا چیڈوکو کے مطابق مقامی منڈی نئی توانائی والی گاڑیوں کو مثبت انداز میں قبول کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں میں دلچسپی بنیادی طور پر مناسب قیمت، ماحولیاتی تحفظ اور نئے ماڈلز کے جدید ڈیزائن اور ٹیکنالوجیز کے امتزاج کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): روکسان موونگانیروا چیڈوکو، سیلز کنسلٹنٹ،  بی وائی ڈی، زمبابوے

"بی وائی ڈی کے طور پر ہم اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ طے ہے کہ ہماری گاڑیاں کسی بھی طرح سے فضائی آلودگی نہیں پیدا کرتیں۔ ہماری سو فیصد الیکٹرک گاڑیوں میں کوئی ایندھن استعمال نہیں ہوتا۔”

اگرچہ زمبابوے میں روایتی ایندھن والی گاڑیوں کو ترجیح دی جاتی ہے تاہم اب الیکٹرک گاڑیوں میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ مقامی صارفین جدید ٹیکنالوجی سے چلنے والی گاڑیاں چاہتے ہیں۔

زمبابوے کو اعتراف ہے  کہ مناسب انفراسٹرکچر کی کمی الیکٹرک گاڑیوں کی قبولیت میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے شمسی توانائی سے چلنے والے ای وی چارجنگ اسٹیشنز کے آلات پر ڈیوٹی ریبیٹ متعارف کروا کر صلاحیتیں بڑھائی ہیں۔

اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں چارجنگ سہولیات کے قیام کو تیز کرنا ہے۔

اگرچہ الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کے لئے قابلِ ذکر اقدامات کئے گئے ہیں۔ تاہم زمبابوے میں گاڑیوں کے کاریگروں کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے لئے مطلوبہ خصوصی تربیت اور آلات کی فی الحال کمی ہے۔

ہرارے سےتعلق رکھنے والے ایک آٹو ٹیکنیشن فاری رائی ماجایا  کا کہنا ہے کہ کچھ روایتی مکینک نئے نظام کو سیکھنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں کیونکہ زمبابوے میں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں ابھی عام نہیں ہوئیں۔

ساؤنڈ بائٹ 5 (انگریزی): فاری رائی ماجایا، آٹو ٹیکنیشن، ہرارے

"ہمیں اپنے آپ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ گاڑیوں کی صنعت سے وابستہ افراد کو اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں میں بہتری لانا ہو گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فی الحال سیکھنے کے مرحلے سے گزرنے والوں کو الیکٹرک  گاڑیوں کی تربیت بھی دی جائے۔ اس طرح ہم دوسروں کے ساتھ برابر رہیں گے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں الیکٹرک گاڑیاں نہیں چاہئیں کیونکہ اس کا مطلب ہو گا  کہ ہم مستقبل کو رد کر رہے ہیں۔”

ہرارے سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

زمبابوے میں الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے

چینی کمپنی بی وائی ڈی نے نئے ماڈلز متعارف کرائے ہیں

حکومتی مراعات کی وجہ سے الیکٹرک گاڑیوں کی منڈی کو نئی رفتار ملی

درآمدی ڈیوٹی چالیس فیصد سے کم کرکے پچیس فیصد کر دی گئی

سولر مصنوعات کے لئے ڈیوٹی فری درآمد کی سہولت بھی میسر ہے

بی وائی ڈی اب سروس اور اسپیئر  پارٹس کی سہولتیں بھی دے رہی ہے

صارفین جدید ڈیزائن اور ٹیکنالوجی والی گاڑیوں میں دلچسپی لے رہے ہیں

الیکٹرک گاڑیاں فضائی آلودگی کا باعث نہیں بنتیں

حکومت چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کیلئے اقدامات کر رہی ہے

ماہرین کے مطابق الیکٹرک گاڑیاں مستقبل کی ضرورت ہیں

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!