قاہرہ (شِنہوا) ایران نے قومی اتحاد برقرار رکھنے کا عہد کرتے ہوئے یورپی یونین کے رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک امریکی سفیر کے متنازع بیان کی تمام عرب ممالک میں بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔
تہران میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے قومی استقامت اور اتحاد کے لئے اپنی انتظامیہ کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے دوران ایران کسی بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
سرکاری ٹی وی آئی آر آئی بی پر براہ راست نشر کئے جانے والے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم کوششیں جاری رکھیں گے اور ہمیں جن مشکلات کا سامنا ہے، ان میں سے کسی کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے۔
مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے قومی ہم آہنگی کی تاکید کی اور ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ اختلافات کو بھلا کر متحد رہیں۔
پزشکیان کا یہ بیان مشرق وسطیٰ میں حالیہ امریکی فوجی قوت میں اضافے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات کے 2 ادوار کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان مذاکرات کا محور ایران کا جوہری پروگرام اور امریکی پابندیوں کا ممکنہ خاتمہ رہا ہے۔
ادھرایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ملک نے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدام یورپی یونین کے اس حالیہ غیر قانونی اور بلا جواز فیصلے کا ردعمل ہے جس میں ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔




