دنیا کے تین بڑے فیسٹیولز میں سے ایک برلن فلم فیسٹیول میں پہلی مرتبہ پاکستان میں بننے والی فیچر فلم کی نمائش کی گئی۔
بھرے ہوئے ہال میں ہدایتکار سرمد سلطان کھوسٹ کی لالی کا ورلڈ پریمیئر ہوا، برلن میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے اراکین نے فلم لالی کا پرتپاک استقبال کیا جبکہ جرمنی میں پاکستان کے سفیر بھی فلم دیکھنے والوں میں شامل تھے۔
اس حوالے سے ہدایتکار سرمد سلطان کھوسٹ نے بتایا کہ فیسٹیول میں پاکستان کا ڈیبیو کرنا کامیابی کے ایک اچھے احساس کیساتھ ہوا، یہ ایک اپنی ہی ثقافت میں گہری جڑوں کیساتھ کسی فلم کی کامیابی ایک توثیق کی علامت ہے، فلم کا ایک حصہ وہ مزاح ہے جس کیلئے پنجاب کا خطہ جانا جاتا ہے جسے سجاول کی والدہ اور خاندان کی سربراہ سوہنی امی کے ذریعے دکھایا گیا ہے۔
فلم کا آغاز اسکے محلے کے مردوں کو سجاول کی شادی کی خوشی میں بندوق چلانے کی ترغیب دینے کیساتھ ہوتا ہے جس سے ایک گولی لڑکی کی ٹانگ میں لگ جاتی ہے، پنجابی زبان کی بلیک کامیڈی فلم لالی سجاول (چنن حنیف) اور اسکی نئی نویلی دلہن زیبا (مامیا شجفر) کی کہانی بیان کرتی ہے، ساہیوال شہر کے محنت کش طبقے میں افواہ ہے کہ اسکے سابقہ منگیتر کی پراسرار حالات میں موت کے بعد زیبا ایک سائے تلے میں زندگی گزار رہی ہے۔
برلن میں لالی کے پریمیئر میں صائم صادق کی جوائے لینڈ کی بازگشت سنائی دی، جوائے لینڈ 2022 میں کانز فلم فیسٹیول میں پیش کی گئی پہلی پاکستانی تھی۔




