جمعرات, جنوری 22, 2026
تازہ تریناستنبول توپ کاپی محل کی تاریخی راہداری پہلی بار عوام کے لیے...

استنبول توپ کاپی محل کی تاریخی راہداری پہلی بار عوام کے لیے کھول دی گئی

استنبول کے تاریخی توپ کاپی محل کی دیواروں کے پیچھے واقع ’مبین راستہ‘ ماضی میں عثمانی سلطانوں کے لیے ایک مخصوص اور محدود گزرگاہ ہوا کرتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اب یہ راستہ اپنی دیواروں کے ذریعے عثمانی دور کے شاندار ٹائل آرٹ کی رنگا رنگ دنیا کو آشکار کر رہا ہے۔ یہ عوام کے لیے پہلی بار ایک نایاب ثقافتی تجربہ فراہم کر رہا ہے اور روایتی سیرامک کاری کے فن کو محفوظ رکھنے اور فروغ دینے کی وسیع کوششوں کا حصہ ہے۔

حال ہی میں ’مبین‘ کو باقاعدہ طور پر ایک آرٹ گیلری کے طور پر عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے، جہاں 260 اصل ٹائل کے نمونے نمائش میں رکھے گئے ہیں۔ ان ٹائلز پر تقریباً 800 منفرد نقوش بنے ہوئے ہیں، جن میں سے بہت سے ماضی میں محل کے مختلف حصوں میں دیواروں کے پینلز اور آرائشی عناصر کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں۔

توپ کاپی محل ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ الہان کوچامان کے مطابق ’مبین‘ کو اس کی علامتی اور تاریخی حیثیت کے باعث گیلری کے طور پر منتخب کیا گیا۔ انہوں نے شِنہوا کو بتایا کہ “مبین راستہ اس لمحے کی علامت ہے جب سلطان حرم کی نجی فضا سے نکل کر ایک حکمران کے طور پر عوامی زندگی میں قدم رکھتا تھا۔”

ساؤنڈ بائٹ 1 (ترکی): الہان کوچامان، ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل پیلیسس کے توپ کاپی محل ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ

"جسے ہم مبین راستہ کہتے ہیں، دراصل یہی وہ گزرگاہ تھی جس کے ذریعے سلطان حرم کی نجی دنیا سے نکل کر عوامی زندگی میں قدم رکھتا تھا۔ اس راستے کو مقدس حیثیت بھی حاصل ہے، کیونکہ اس کے عقب میں وہ مقام واقع ہے جہاں پیغمبر محمد ﷺ سے منسوب مقدس یادگاریں محفوظ ہیں۔ سلطان اسی راستے سے گزر کر اس مقدس حصے تک پہنچتا تھا، اسی نسبت سے اسے ’مبین‘ کہا جاتا ہے۔ چونکہ اس راستے کی حیثیت ایک مقدس مقام کی ہے، اس لیے ہم نے یہ مناسب سمجھا کہ ان ٹائلوں کے نمونے بھی اسی جگہ نمائش کے لیے رکھے جائیں۔”

کوچامان نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ یہ راستہ حضورِ اکرم ﷺ کی یادگاریں رکھنے والے حصے کے ساتھ چلتا ہے، جس کی وجہ سے اسے محل میں خصوصی مقام حاصل تھا۔

کوچامان کے مطابق، اس گیلری سے محققین، فنکاروں اور زائرین کو 16ویں صدی سے 19ویں صدی تک عثمانی ٹائل سازی کی ترقی کو سمجھنے میں رہنمائی ملے گی۔

یہ گیلری محل کی پیچیدہ ٹائل کاری کو اجاگر کرتی ہے جسے کوچامان نے توپ کاپی محل کے سب سے اہم سجاوٹی عنصر کے طور پر بیان کیا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (ترکی): الہان کوچامان، ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل پیلیسس کے توپ کاپی محل ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ

"جی ہاں، پندرہویں صدی سے چین کے اثرات لیے ہوئے ٹائلیں عثمانی دنیا میں متعارف ہونا شروع ہوئیں۔ ابتدا میں ان کی تیاری خاص طور پر اِزنیق میں ہوتی رہی، بعد ازاں یہی فن کوتاہیا اور استنبول تک پھیل گیا۔ اگرچہ یہ ٹائلیں مقامی طور پر تیار کی جاتی تھیں، لیکن ان کے ڈیزائن عثمانی روایات کے ساتھ ساتھ مشرقی اور وسطی ایشیا، خصوصاً ترک اور چینی ثقافتی دائرے کے نقوش سے متاثر تھے۔

ان ٹائلوں میں سب سے نمایاں پہلو ٹولِپ جیسے نقش و نگار ہیں، جو وقت کے ساتھ استنبول اور عثمانی سلطنت کی پہچان بن گئے۔ رنگوں کے استعمال میں بھی عثمانی فنکاروں نے ایک منفرد انداز اپنایا، جس میں گہرے سرخ رنگ کا بھرپور استعمال کیا گیا، جسے ’ترکی سرخ‘ کہا جاتا ہے، جبکہ نیلے رنگ کی انڈیگو شیڈ بھی خاص طور پر نمایاں رہی۔

پندرہویں اور سولہویں صدی کے دوران یوان اور منگ خاندانوں کے نیلے اور سفید ڈیزائن استنبول اور توپ کاپی محل تک پہنچے، جن کے اثرات آج بھی یہاں نمائش میں موجود ٹائلوں کے نمونوں میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’سنی‘ یعنی روایتی عثمانی چمکدار ٹائل اور سیرامک فن کو ابتدائی تحریک پندرہویں صدی میں درآمد ہونے والے چینی مٹی کے برتنوں سے ملی۔ یہی فن ازنیق میں پروان چڑھا اور ایک منفرد مقامی روایت کی شکل اختیار کر گیا، جو بعد میں کوتاہیا اور استنبول تک پھیل گیا۔

چین اور ایشیا کے دیگر خطوں سے اثرات قبول کرتے ہوئے، کوچامان کے مطابق عثمانی ٹائل سازوں نے بتدریج اپنی الگ بصری زبان تشکیل دی، جس میں ٹولِپ جیسے مخصوص نقش شامل کیے گئے۔ یہ نقوش بعد میں استنبول کی سجاوٹی روایت کی نمایاں علامت بن گئے۔

کوچامان نے عثمانی دور کے رنگوں کے منفرد امتزاج کی طرف بھی توجہ دلائی، جس میں ترکی سرخ اور انڈیگو نیلا نمایاں تھے۔ چینی سیرامکس کاریگروں سے متاثر نیلے اور سفید ڈیزائنوں کو عثمانی فنکاروں نے ایک الگ اور پہچان رکھنے والے جمالیاتی انداز میں ڈھال دیا۔

تین دہائیوں سے زائد تجربہ رکھنے والے قومی پیشہ ور ٹور گائیڈ الپ اکسوڈوگان کے مطابق یہ گیلری محل کی تاریخ کو ایک وسیع تناظر میں سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے شِنہوا کو بتایا کہ “توپ کاپی صرف ایک میوزیم نہیں، بلکہ ایسی جگہ ہے جو صدیوں پر محیط عثمانی درباری زندگی کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 3 (ترکی): الپ اکسوڈوگان، قومی پیشہ ور ٹور گائیڈ

"سب سے پہلے، توپ کاپی محل خود ہی دیکھیں۔ 15ویں صدی سے توپ کاپی محل عثمانی سلطنت کے 23 سلطانوں کا گھر رہا ہے۔ 19ویں صدی میں آخری چھ سلطان دولماباہچے محل منتقل ہو گئے مگر توپ کاپی انتظامی مرکز کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ آج یہ نہ صرف دنیا کے سب سے معزز میوزیموں میں سے ایک ہے بلکہ عثمانی تاریخ کا ایک بے حد امیر اور اہم ریکارڈ بھی ہے۔

حرم توپ کاپی محل کے سب سے اہم اور ساتھ ہی سب سے کم سمجھ آنے والے حصوں میں سے ایک ہے۔ جس گیلری کا افتتاح ہم مبین راستے کے ساتھ کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہیں۔وہ ٹائل آرٹ کے لیے مختص ہے مگر یہ محل کی زندگی کو بھی اس تاریخ کا حصہ بنا کر پیش کرتی ہے۔

توپ کاپی محل کے پاس چین کے باہر دنیا کا سب سے زیادہ چینی پورسلین کا مجموعہ موجود ہے اور اس لحاظ سے یہ عالمی سطح پر پہلی پوزیشن رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کی اہمیت اور قدر بہت زیادہ ہے۔”

اکسوڈوگان کے مطابق، ٹائل گیلری کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ حرم کی یکجہتی اور ماحول برقرار رہے جبکہ عثمانی سیرامک فن کی اہم مثالیں دکھائی جائیں۔ اس سے زائرین کو ایک آزاد نمائش کے بجائے محل کو ایک زندہ تاریخی جگہ کے طور پر محسوس کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔

گیلری میں ٹائلوں کا مجموعہ توپ کاپی محل کے معروف چینی مٹی کے برتنوں کے مجموعے کی تکمیل بھی کرتا ہے جسے محل کے کمپلیکس کے اندر ایک مخصوص میوزیم میں دکھایا جانا ہے۔

اکسوڈوگان نے کہا کہ "چینی مٹی کے برتنوں کا مالک ہونا اور انہیں نمائش میں رکھنا طویل عرصے سے عثمانی خاندان کے لیے وقار اور طاقت کی علامت رہا ہے۔ جب ٹائلیں اور مٹی کے برتن ایک ساتھ دیکھے جائیں تو سلطنت کے فنکارانہ ذوق، معاشی قوت اور دنیا کے ساتھ روابط واضح ہوتے ہیں۔”

ساؤنڈ بائٹ 4 (ترکی): الپ اکسوڈوگان، قومی پیشہ ور ٹور گائیڈ

"ہم ایک ایسے حصے میں ہیں جسے حرم کی مجموعی یکجہتی، ماحول اور خصوصیات کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ احتیاط سے تیار اور نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ زائرین ایک ایسے ماحول کا تجربہ کرتے ہیں جو بلا شبہ محل کی عالمی مقام اور شہرت کو بڑھائے گا۔”

تحفظ کے علاوہ، اس گیلری کو ٹائل فنکاروں، طلبہ اور ورکشاپ کے شرکاء کے لیے ایک تعلیمی حوالہ بھی بننے کی توقع ہے۔ یہاں اصل کاموں سے براہ راست رابطہ ملتا ہے جو موجودہ دور کی سیرامک مشق کو شکل دیتے رہتے ہیں۔

استنبول کے ٹائل آرٹسٹ میتین اورینل کے مطابق یہ گیلری اصل کاموں تک نایاب رسائی فراہم کرتی ہے، جو پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے شِنہوا کو بتایا کہ "ان ٹائلوں کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے سے ہمیں تکنیک، تناسب اور رنگ کو اس انداز میں سمجھنے میں مدد ملتی ہے جو کتابیں نہیں کر سکتیں۔ یہ ہماری اپنی کاریگری کو بہتر بنانے کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتا ہے جبکہ ہم روایت سے جڑے رہتے ہیں۔”

استنبول، ترکی سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندے کی رپورٹ

—————————————–

آن سکرین ٹیکسٹ:

توپ کاپی محل کی تاریخی راہداری پہلی بار عوام کے لیے کھول دی گئی

مبین راستے میں عثمانی ٹائل آرٹ کی خصوصی نمائش

260 اصلی ٹائل کے ٹکڑے، 800 سے زائد منفرد ڈیزائنز موجود

بحالی کے بعد محل کی پوشیدہ دیواریں فن کے اظہار کا مرکز بن گئیں

ٹائل گیلری میں 16ویں سے 19ویں صدی کی عثمانی کاریگری کی جھلک

مبین راستہ سلطان کے حرم سے عوامی دنیا میں داخلے کی علامت

ٹائل آرٹ کو ‘مقدس راستہ’ سمجھ کر مقام کا انتخاب

چینی ڈیزائنز کا عثمانی ٹائل آرٹ پر نمایاں اثر

لال (ترکش ریڈ) اور نیلا (انڈیگو) عثمانی فن کی پہچان

توپ کاپی محل میں دنیا کی سب سے بڑی چینی پورسلین کلیکشن موجود

توپ کاپی صرف میوزیم نہیں، صدیوں پر محیط سلطنت کی داستان ہے۔ ماہر ٹور گائیڈ

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!