وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کا پانی روکنے سے قبل سوچ لے اس کا پانی بھی دوسرے ملک سے آرہا ہے، پانی روکنے کو اعلان جنگ سمجھیں گے، پڑوسی ملک پہلے بھی چھیڑ خانی کر کے خمیازہ بھگت چکا ہے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی عصر حاضر کا سب سے بڑا چیلنج ہے، ایک سیلاب میں نسلوں کا اثاثہ بہہ گیا، ہمیں ناگہانی آفات میں جانی و مالی نقصانات اٹھانا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا شمار موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں ہوتا ہے، حالانکہ کاربن اخراج میں ہمارا حصہ انتہائی معمولی ہے جبکہ ہمارے پڑو س کے 2 ممالک 40 فیصد کاربن پیدا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے 10ملک ایسے ہیں جو دنیا کی 75 فیصد کاربن پیدا کرتے ہیں اور یہی 10 ملک دنیا کی 85 فیصد فنانسنگ لے رہے ہیں، متاثرہ ممالک کو تواس فنانسنگ سے کچھ خاص نہیں ملتا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کہتا ہے ہم انڈس ٹریٹی کو نہیں مانتے، پانی روک لیں گے، پانی روک کے چھوڑیں گے تو سیلاب آئے گا، پانی کو روک دیں گے تو قحط ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت جان لے پانی روکا تو اسے اعلان جنگ سمجھیں گے، اسے سوچنا چاہئے اس کا پانی بھی تو دوسرے ملک سے آرہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت پہلے بھی پاکستان سے چھیڑ خانی کر کے اس کا خمیازہ بھگت چکا ہے۔




