بنگلا دیش میں آئندہ ماہ ہونیوالے عام انتخابات کیلئے باضابطہ انتخابی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے، انتخابات 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد ہونیوالے پہلے انتخابات ہیں جس کے نتیجے میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی طویل اور آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔
بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے مرکزی رہنماء وزارتِ عظمی کے امیدوار طارق رحمان کی قیادت میں شمالی شہر سلہٹ میں ایک بڑے انتخابی جلسے کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں کارکنوں اور حامیوں نے شرکت کی، شرکاء پارٹی جھنڈے اٹھائے طارق رحمان کے حق میں نعرے لگاتے رہے، طارق رحمان سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے ہیں۔
دوسری جانب جماعت اسلامی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ڈھاکا میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز کریگی، جماعت کئی برسوں بعد عملی سیاست میں واپسی کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ شیخ حسینہ کے فرار کے بعد جماعت کے کئی رہنماں کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔
بنگلا دیش میں 12فروری کو عام انتخابات ہونگے جن میں 350ارکان پارلیمنٹ کا انتخاب کیا جائیگا۔
یورپی یونین کے مبصرین کے مطابق یہ عمل 2026کا سب سے بڑا جمہوری عمل ہو سکتا ہے، انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ملک میں سیاسی بے یقینی، سکیورٹی خدشات اور سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کے پھیلا پر تشویش پائی جا رہی ہے




