ڈیووس، سوئٹزرلینڈ (شِنہوا) سنجینٹا گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیف رو نے 2026 کے عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر بتایا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز خوراک کی پیداوار کے طریقوں کو بدل رہی ہیں اور چین زرعی جدت اور تحقیق و ترقی کے لئے ایک بڑھتے ہوئے اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر بیسل میں قائم ایک معروف زرعی ٹیکنالوجی کمپنی سنجینٹا کے سی ای او جیف رو گزشتہ دہائی میں چین کے کثرت سے دورے کر چکے ہیں، جس سے انہیں ملک کے زرعی شعبے میں "زبردست ترقی” خاص طور پر بڑھتی ہوئی زرعی پیداوار، معیار میں بہتری اور تیز رفتار جدت دیکھنے کا موقع ملا۔
شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے زور دیا کہ زراعت لوگوں کے خیال سے کہیں زیادہ ایک جدید صنعت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین نئی ٹیکنالوجیز اپنانے اور ڈیجیٹل حل تیار کرنے میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جو کسانوں، صارفین اور ماحولیات کے لئے فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔
ان کے خیال میں چین کے ہر پانچ سالہ منصوبے نے ترقی کے نئے مواقع پیدا کئے ہیں اور زراعت ہمیشہ ایک ترجیح رہی ہے۔
چین کے آنے والے 15 ویں پانچ سالہ منصوبے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ خوراک کی سپلائی کے تحفظ کو مضبوط کرنے اور اناج کی مجموعی پیداوار کی صلاحیت بڑھانے کے لئے مسلسل عزم کی علامت ہے۔
انہوں نے اس پالیسی کے رخ کو حوصلہ افزا قرار دیا اور کہا کہ خوراک کی پیداوار اور زرعی جدت پر طویل مدتی مسلسل توجہ معاشرے کے لئے بہت اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت چین کو زیادہ موثر طریقے سے پیداوار کرنے، چینی کسانوں کو بہتر فیصلے کرنے، زراعت کے درست طریقے اپنانے اور خراب زمین کی بحالی میں بھی مدد کر سکتی ہے۔
انہوں نے چین کے مضبوط تحقیق و ترقی کے ماحول کا سہرا تعلیم، ٹیلنٹ اور ٹیکنالوجی نظام میں طویل مدتی سرمایہ کاری کو دیا اور کہا کہ سنجینٹا چین میں اپنے جدت کے مراکز کو بڑھا رہا ہے اور وہ جلد ہی ایک نئے ادارے کے افتتاح کے لئے چین کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے چینی ٹیکنالوجی اور اے آئی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری میں انتہائی دلچسپی کا اظہار کیا اور کہا کہ چین عالمی سطح پر ہمارے لئے ایک سب سے اہم منڈی ہے۔




