اسرائیلی حکومت نے ایران کیساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے حفاظتی اقدامات تیز کر دئیے ہیں۔
اسرائیلی وزیر ٹرانسپورٹ میری ریگوف نے کہا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کے خدشہ کے پیش نظر اسرائیلی ایئرلائنز اپنے طیاروں کو عارضی طور پر بیرون ملک منتقل کرنے کی تیاری کر رہی ہیں، اگرچہ تاحال طیاروں کی منتقلی کے باقاعدہ احکامات جاری نہیں کئے گئے تاہم اسرائیلی ایئرلائنز پہلے سے تیار کردہ منصوبوں کے تحت کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق قومی ایئرلائن کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ اسوقت فضائی آپریشن معمول کے مطابق جاری ہیں، گزشتہ سال جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران طیاروں کو اسرائیل سے باہر منتقل کرنا پڑا تھا، اس موقع پر بعض طیارے قبرص اور ایتھنز منتقل کئے گئے تھے جبکہ کئی طیارے تھائی لینڈ، امریکا اور یورپ کے مختلف ممالک میں موجود تھے۔
دوسری جانب ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے باعث اسرائیل نے دفاعی الرٹ میں اضافہ کر دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی قیادت کسی بھی امریکی کارروائی کے جواب میں اپنی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے۔
اسرائیلی فضائیہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کسی بھی مرحلے پر اسرائیل کو اس تنازع میں شامل کر سکتا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ایران اسرائیل کو براہِ راست پہلا ہدف بنائے گا یا نہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکا اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ قریبی رابطہ بھی برقرار ہے۔




