لوساکا (شِنہوا) چین کی جانب سے سفارتی تعلقات رکھنے والے 53 افریقی ممالک کی درآمدات پر مکمل طور پر زیرو ٹیرف نافذ کرنے کے فیصلے کو جنوب-جنوب تعاون مضبوط بنانے کے لئے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
زیمبیا کے سماجی ماہر معاشیات کیلوین چھیسانگا نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ براعظم افریقہ آزاد تجارتی علاقے کے اہداف سے ہم آہنگ ہے کیونکہ یہ علاقائی مسابقت اور انضمام کو فروغ دیتا ہے۔
چھیسانگا نے شِنہوا کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ چین کا یکم مئی سے 53 افریقی ممالک کے لئے زیرو ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان افریقہ-چین تجارتی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
چھیسانگا نے نشاندہی کی کہ یہ فیصلہ برآمدات میں توسیع کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے خصوصاً اُن شعبوں میں جو روایتی طور پر زراعت، زرعی پراسیسنگ، مینوفیکچرنگ اور معدنی ویلیو چین کی پیداوار جیسے بنیادی وسائل پر انحصار کرتے ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے ممکنہ فوائد کا دارومدار اس کے موثر نفاذ پر ہے، جس میں اصلیت کے قواعد، مصنوعات کی اہلیت اور معیار کے تقاضوں کی پابندی شامل ہیں۔
زیمبیا کے حوالے سے ماہر نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف برآمدات کے حجم میں اضافے اور برآمدی اشیاء میں تنوع کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے، سرمایہ کاری راغب کرنے اور متعلقہ فریقین کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کا بھی ذریعہ بن سکتا ہے۔




