اتوار, فروری 22, 2026
پاکستانپنجاب، 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی جرم...

پنجاب، 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی جرم قرار، آرڈیننس تیار

پنجاب حکومت نے کم عمری کی شادی پر مکمل پابندی سے متعلق آرڈیننس تیار کر لیا گیا۔

انسدادِ کم عمری کی شادی کے آرڈیننس پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

آرڈیننس کے مطابق نکاح رجسٹرار کو کم عمر کی شادی رجسٹر کرنے پر 1سال قید اور 1لاکھ روپے جرمانہ ہوگا جبکہ 18 سال سے زائد عمر کے شخص کو کم عمر لڑکی سے نکاح پر کم از کم 2 سال قید ہوگی، علاوہ ازیں کم عمری کی شادی میں ملوث بالغ شخص کو 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔

شادی کے بعد کم عمر لڑکی کیساتھ رہائش یا تعلقات کو چائلڈ ایبوز قرار دے دیا گیا ہے اور چائلڈ ابیوز پر 5 سے 7 سال قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔

آرڈیننس کے مطابق کم عمر بچوں کو شادی کیلئے پنجاب سے باہر لے جانا چائلڈ ٹریفکنگ تصور ہوگا، سرپرست یا والدین کو کم عمری کی شادی کرانے پر 2 سے 3 سال قید کی سزا ہوگی۔

آرڈیننس کے مطابق چائلڈ میرج کے تمام مقدمات سیشن کورٹ میں چلائے جائیں گے اور عدالت کو کم عمری کی شادی روکنے کیلئے فوری حکم امتناع جاری کرنے کا اختیار ہوگا۔

آرڈیننس کے تحت تمام جرائم ناقابل ضمانت اور ناقابل راضی نامہ قرار دیے جائیں گے۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!