اقوام متحدہ (شِنہوا) ایک چینی مندوب نے کہا ہے کہ چین نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سوڈان تنازع کے پائیدار اور موثر حل کے لئے اپنی اجتماعی کوششوں کے پانچ نکاتی اتفاق رائے کو برقرار رکھے کیونکہ اس تنازع نے سوڈان اور اس کے عوام کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو تسونگ نے سوڈان کے متعلق سلامتی کونسل کی بریفنگ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو سوڈان کا تنازع پھیلنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے اور نہ ہی عام شہریوں کا مزید جانی نقصان قبول کیا جاسکتا ہے۔
پانچ نکاتی اتفاق رائے میں جلد ازجلد جنگ بندی کرانے، انسانی بحران کو کم کرنے، ثالثی کی کوششوں کو مضبوط بنانے، سوڈان کے حق ملکیت اور مربوط ترقی و سکیورٹی پر اتفاق رائے شامل ہے۔
فو نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو تمام فریقین پر زور دینا چاہیے کہ وہ سوڈان کے مجموعی قومی مفادات اور اپنے عوام کی طویل المدتی فلاح و بہبود کو ترجیح دیں، علاقائی اور بین الاقوامی برادری کے وسیع تر اور پر زور مطالبات پر توجہ دیں اور بلا تاخیر کشیدگی ختم کریں۔بیرونی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ فوجی مدد فراہم کرنا بند کریں، تنازع کو ہوا دینے سے گریز کریں اور اس انتشار سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کریں۔
چین کی طرف سے شہریوں، شہری سہولیات اور اقوام متحدہ کے عملے پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے تنازع کے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی سختی سے پابندی کریں اور کمزور گروپوں کو خصوصی تحفظ فراہم کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ انسانی مسائل کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ امداد میں اضافہ کرے، اپنے مالی وعدوں کو ذمہ داری کے ساتھ پورا کرے اور سوڈان کے ساتھ ساتھ ان پڑوسی ممالک کی بھی مدد کرے جو بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہے ہیں، تاکہ وہ اپنی انسانی امداد کی صلاحیتوں کو مضبوط بنا سکیں۔




