تائی یوآن (شِنہوا) مریم جاوید محمد کے لئے چین بھر میں منایا جانے والا بہار تہوار اس بار پہلے سے کہیں زیادہ شرکت اور وابستگی کا احساس لے کر آیا ہے۔
ایک ہفتہ قبل ہی اس پاکستانی شریک حیات نے دیگر چینی خاندانوں کی طرح نئے سال کی خریداری، گھر کی صفائی اور ڈمپلنگز سمیت تہوار کی خصوصی غذائیں تیار کرنا شروع کر دی تھیں۔
یہ چین میں مریم کا دوسرا بہار تہوار ہے۔ 2024 کے موسم گرما میں وہ دبئی کی جدید اور سہولیات سے بھرپور زندگی چھوڑ کر اپنے چینی شوہر کے ہمراہ چین کے شمالی صوبے شنشی کی کاؤنٹی وین شی منتقل ہو گئی جہاں انہوں نے اپنی "دوسری زندگی” کا آغاز کیا۔
گزشتہ ایک سال میں مریم کی زندگی میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ ان کی پہلی بیٹی لیزا پیدا ہوئی، وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے زیادہ مانوس ہو گئی اور بہت سے کام خود سنبھالنے لگی جبکہ ان کی چینی زبان بھی اتنی بہتر ہو گئی کہ وہ سب کو "شن نیان کوائی لہ” کہہ کر مبارکباد دیتی ہیں جس کا مطلب ہے "بہار تہوار مبارک”۔
مریم کہتی ہیں کہ "لوگ خاندانی ملاپ کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں اور مختلف تقاریب سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بہار کا تہوار یقیناً میرا پسندیدہ چینی تہوار ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے پورا ملک ایک عظیم جشن منا رہا ہو۔”
اس سال بہار کا تہوار 17 فروری کو شروع ہوا۔ اگرچہ سرکاری تعطیلات 9 دنوں پر مشتمل ہیں لیکن دیہی علاقوں میں تقریبات تقریباً ایک ماہ تک جاری رہتی ہیں۔ ضلع وین شی میں صدیوں پرانی روایتی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے نئے سال کی شاندار پریڈز بھی نکالی جاتی ہیں۔ مریم کا خاندان یہیں رہتا ہے۔ اس دوران لوگ اپنے اہل خانہ سے ملتے ہیں اور رشتوں کی گرمجوشی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
وین شی چین کے دریائے زرد کے درمیانی حصے میں واقع ہے۔ زرخیز زمین اور موافق آب و ہوا کے حامل اس علاقے میں قدیم چینی تہذیب پروان چڑھی۔ ہزاروں برسوں میں یہاں ایسی ثقافت پروان چڑھی جو چین کے دیگر حصوں کے مقابلے میں بھی زیادہ قدیم اور روایتی ہے۔ "خاندانی ثقافت” اسی روایت کا حصہ ہے۔
مریم نے کہا کہ یہاں خاندانی ثقافت کا ماحول بہت مضبوط ہے۔ مثال کے طور پر والدین اور بچوں کے تعلقات کو ہی دیکھ لیں۔ چاہے وہ ساتھ نہ بھی رہتے ہوں، پھر بھی اکثر ملتے رہتے ہیں۔ ہمارے گھر میں میرے ساس سسر اکثر آ کر بچے کی دیکھ بھال میں مدد کرتے ہیں جو ہمارے لئے بہت بڑی سہولت ہے۔
چین میں خاندانی ثقافت کا تصور وسیع ہے۔ اس میں نہ صرف خاندان کے افراد کے باہمی تعلقات شامل ہیں بلکہ خاندانی اصول و ضوابط بھی شامل ہیں جو نئی نسل کو خاندان کی ساکھ برقرار رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بزرگوں کا احترام، بچوں سے محبت، ہمسایوں سے خوشگوار تعلقات اور سادگی جیسی روایتی چینی اقدار بھی اسی کا حصہ ہیں۔
مریم کو ہمسایوں کے درمیان باہمی تعاون بھی بہت متاثر کرتا ہے۔ چاہے کسی کو پارسل وصول کروانا ہو یا گاڑی ادھار لینی ہو، لوگ ہمیشہ مدد کے لئے تیار رہتے ہیں۔
مریم نے کہا کہ ہم ایسے رہتے ہیں جیسے ایک بڑے خاندان کا حصہ ہوں،سب ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔ یہ پاکستان جیسا ہی ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ ’’ وہ مومن نہیں جس کا پیٹ بھرا ہو اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔‘‘ مریم نے مزید کہا کہ بڑے شہروں میں ایسا احساس کم ہی ملتا ہے۔”
مقامی عوامی بل بورڈز پر "خاندانی ثقافت” کے فروغ کے نعرے نمایاں نظر آتے ہیں۔ سکولوں میں متاثر کن کہانیاں نسل در نسل منتقل کی جاتی ہیں جبکہ کمیونٹیز میں مثالی خاندانوں کو اعزاز دے کر دوسروں کے لئے نمونہ قرار دیا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چینی زبان میں "ملک” کے لفظ میں "گھر/خاندان” کا حرف شامل ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چینی ثقافت میں ملک کو بھی ایک بڑے خاندان کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو کئی چھوٹے خاندانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس بڑے خاندان میں ہر فرد کو ایک دوسرے کا احترام اور خیال رکھنا چاہیے اور بہتر مستقبل کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے۔
علاوہ ازیں 2013 میں چینی قیادت نے "انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے” کا تصور پیش کیا جو اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ تمام ممالک چاہے بڑے ہوں یا چھوٹے، ایک دوسرے کا احترام کریں، تبادلے بڑھائیں اور باہمی فائدے پر مبنی تعاون کو فروغ دیں۔
مریم کہتی ہیں کہ "میں انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کے تصور سے بھرپور اتفاق کرتی ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ اس تصور کو حقیقت بنانے کے سفر میں چین کی خاندانی ثقافت اہم کردار ادا کرے گی۔”
مستقبل کے حوالے سے مریم نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر اور بیٹی کے ساتھ پاکستان واپس جا کر ایک ریستوران کھولنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
مریم نے کہا کہ میرے آبائی شہر لاہور میں بہت سے چینی ریستوران ہیں۔ شاید مستقبل میں آپ کو ہمارا ریستوران بھی وہاں ملے۔ میں وہاں کے مقامی لوگوں کو خاندانی ثقافت کے بارے میں مزید بتاؤں گی۔




