بیجنگ (شِنہوا) موجودہ امریکی انتظامیہ کو ایک سال مکمل ہونے پر واشنگٹن نے عالمی نظام کی پاسداری کا دکھاوا باضابطہ طور پر ترک کر دیا ہے اور اب وہ کھلے عام سامراجی ایجنڈا اختیار کئے ہوئے ہے۔
ایک وقت تھا جب امریکہ عالمی بالادستی کے اپنے عزائم کو نام نہاد قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کی حمایت کے بیانیے میں لپیٹ کر پیش کرتا تھا۔ آج واشنگٹن میں فیصلہ ساز اس مفروضے پر کام کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی معاملات میں قواعد نہیں بلکہ طاقت فیصلہ کن ہوتی ہے۔
وینزویلا کے خلاف امریکی حملوں کو ہی دیکھ لیجیے۔ اس خودمختار ملک کے رہنما کے پکڑنے کے بعد واشنگٹن کے رہنماؤں نے جمہوریت کے نام پر حکومت کی تبدیلی کی بات کو یکسر ترک کر دیا اور کھلے عام اس ارادے کا اظہار کیا کہ وہ اس لاطینی امریکی ملک کو "چلائیں گے” اور اس کے تیل کے وسیع وسائل کو امریکہ کے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کریں گے۔
گرین لینڈ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی موجودہ امریکی انتظامیہ کی سامراجی توسیع پسندی کی ایک اور نمایاں خصوصیت کو ظاہر کرتی ہے یعنی وہ ہر اس چیز پر قبضہ کرنے کے لئے تیار ہے جسے وہ اپنے مفادات کے لئے اہم سمجھتی ہے، چاہے اس کا مطلب اپنے ہی اتحادیوں سے وہ چیز چھیننا ہی کیوں نہ ہو۔
اس جزیرے پر قبضہ کرنے کے لئے ٹرمپ انتظامیہ اپنے نیٹو اتحادی ڈنمارک کو ایک معاہدے پر مجبور کر رہی ہے اور ان یورپی ممالک کے خلاف تادیبی محصولات کا استعمال کر رہی ہے جو امریکہ کی گرین لینڈ سے متعلق کوشش کو مسترد کر رہے ہیں۔




