بیجنگ (شِنہوا) چینی محققین نے گھوڑوں سے متعلق اب تک کی سب سے قدیم معلوم تحریری دستاویزات دریافت کی ہیں جو بانس کی تختیوں پر لکھی گئی ہیں اور ان کی تاریخ 2 ہزار سال سے زائد قدیم متحارب ریاستوں (475 قبل مسیح تا 221 قبل مسیح) کے دور سے جا ملتی ہے۔ اس دریافت کا اعلان بیجنگ میں تسنگہوا یونیورسٹی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا۔
تسنگہوا یونیورسٹی کے آثار قدیمہ کے تحقیق و تحفظ مرکز نے حال ہی میں گھوڑوں سے متعلق بانس پر تحریر شدہ پانچ متن مرتب کئے ہیں۔ محققین کے مطابق یہ اس وقت چین میں دریافت ہونے والی گھوڑوں کی جانچ، ویٹرنری علاج، تربیت اور رہنمائی سے متعلق سب سے قدیم اور منظم تحاریر ہیں۔
مرکز سے وابستہ ایسوسی ایٹ پروفیسر شی شیاؤلی نے کہا کہ متحارب ریاستوں کا دور قدیم چین میں رتھوں کی جنگ کا عروج کا دور تھا جب گھڑ سواری اور رتھ چلانے کو اشرافیہ کے لئے بنیادی مہارت سمجھا جاتا تھا۔ تاہم ان عملی تکنیکوں سے متعلق تفصیلات اب تک دستیاب قدیم تحاریر میں بہت محدود طور پر محفوظ تھیں۔
شی شیاؤلی نے کہا کہ ان میں سے ایک متن کی اشاعت، جو گھوڑوں کی رہنمائی کے طریقوں کی تفصیل بیان کرتا ہے، متحارب ریاستوں کے دور اور حتیٰ کہ مجموعی قدیم چینی تاریخ میں گھڑ سواری کی تکنیکوں سے متعلق ادب میں موجود خلا کو پر کرتی ہے اور قدیم گھڑ سواری کے مطالعے کے لئے نہایت اہم دستاویزی اہمیت رکھتی ہے۔




