اوسلو (شِنہوا) ناروے کے وزیراعظم جونس گہر سٹور نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ انہیں اتوار کی دوپہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک تحریری پیغام موصول ہوا ہے۔
بیان میں سٹور نے گرین لینڈ سے متعلق ناروے کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ مملکت ڈنمارک کا حصہ ہے اور ناروے اس معاملے پر ڈنمارک کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
سٹور نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے بھیجا گیا ٹیکسٹ پیغام اس مختصر پیغام کے جواب میں تھا جو انہوں نے اسی دن اس سے قبل اپنی اور فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب کی جانب سے بھیجا تھا۔
سٹور کے مطابق ٹرمپ کو بھیجے گئے اپنے پیغام میں انہوں نے اعلان کردہ ٹیرف میں اضافے کی مخالفت کی، کشیدگی کم کرنے کی ضرورت کی نشاندہی کی اور اسی دن ٹرمپ، سٹب اور سٹور کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کی تجویز پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ پیغام بھیجے جانے کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ کی جانب سے جواب آ گیا۔ سٹور نے مزید بتایا کہ اپنا پیغام دیگر نیٹو رہنماؤں کے ساتھ شیئر کرنا ٹرمپ کا اپنا فیصلہ تھا۔
بیان میں سٹور نے نوبیل امن انعام پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے واضح طور پر یہ بات کی ہے کہ جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ یہ انعام ناروے کی حکومت نہیں بلکہ ایک آزاد نوبیل کمیٹی دیتی ہے ۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سٹور کو بھیجے گئے تحریری پیغام میں ٹرمپ نے ناروے کے اس فیصلے کا حوالہ دیا کہ انہیں نوبیل امن انعام نہیں دیا گیا حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ’’آٹھ جنگیں رکوا دیں۔‘‘ ٹرمپ نے کہا کہ اب میں خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند محسوس نہیں کرتا اور یہ بھی کہا کہ اب وہ اس بارے میں سوچ سکتے ہیں کہ امریکہ کے لئے کیا اچھا اور مناسب ہے۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ نیٹو کے قیام کے بعد سے امریکہ نے نیٹو میں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ کردار ادا کیا ہے اور اب "نیٹو کو امریکہ کے لئے کچھ کرنا چاہیے”۔ انہوں نے زور دیا کہ گرین لینڈ پر امریکہ کا تمام اور مکمل کنٹرول ہی عالمی سلامتی کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔
ہفتے کے روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سے آنے والی اشیاء پر 10 فیصد محصولات عائد کرے گا اور دھمکی دی تھی کہ اگر گرین لینڈ کی ان کے بقول ” مکمل خریداری” پر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو یکم جون سے یہ شرح 25 فیصد تک بڑھا دی جائے گی۔




